ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 285
دیا تو اس سے ایسا بُعد ہوا کہ وہ اس کی نافرمانی کرنے لگے اور ایک ضعیف اور ناتوان انسان کو خدا بنانا پڑا۔ہم نے ایک مرتبہ ایک پادری سے پوچھا کہ اگر ایک شخص سر سے برہنہ ہو اور وہ صلیب ہاتھ میں لے کر کسی کے کوٹھے میں آ گھسے اور کہے آئی ایم گاڈ۔آئی ایم گاڈ (میں خدا ہوں)۔تو کیا تم اسے خدا مان لو گے؟ اس کی نسبت تم کیا رائے قائم کرو گے ؟ اس پر وہ چپ ہو گیا اور اس نے کہا آپ مباحثہ میں تیز لفظ بولتے ہیں۔فرمایا۔جس غرض کے لئے انسان ایک بدی کو اختیار کرتا ہے وہی اس کے ارتکاب سے مفقود ہو جاتی ہے۔بعض لوگ افیون کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ امساک پیدا ہو۔مگر افیون کھاتے کھاتے انجام یہ ہوتا ہے کہ قوت باہ ہی بالکل مفقود ہو جاتی ہے۔ایسا ہی بعض لوگ شراب اس لئے پینے لگتے ہیں کہ سرور حاصل ہو مگر شراب خور عمومًا ہر قسم کے ہموم و غموم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ برے ہم نشینوں کی صحبت کے اثر سے شراب کا عادی ہو گیا۔ایک رات کو بدقسمتی سے اتنی شراب پی کہ بدمستی کی حالت میں ایک بد رَو میں گر گیا اور رات بھر وہیں پڑا رہا۔اس کے ہاتھ میں سونے کے کنگن تھے کسی نے اتار لئے۔صبح کو جب دیکھا وہ غائب تھے۔اس نقصان کو وہ برداشت نہ کر سکا اور آخر خونی اسہال شروع ہو گئے جو اس کی موت کا باعث ہوئے۔اب دیکھو کہ جس سرور کو وہ شراب کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا تھا وہی شراب اس کے لئے وبال جان ہوئی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اس میں نہ تھی۔وہ ایک بدی تھی۔چور چوری کرتا ہے کہ وہ یکدم مالدار ہو جاوے مگر وہ چوری کا مال اپنے گھر نہیں رکھ سکتا اور مفلس کا مفلس ہی رہتا ہے۔امرتسر کا واقعہ ہے کہ ایک چور نے ایک گھر کو لوٹا۔نکلتے وقت گھر کے مالک نے بھی دیکھ لیا۔مگر جب ایک عرصہ اس بات پر گزر گیا تو وہی چور نہایت پھٹے پرانے کپڑوں میں اس طرف سے گزرا۔اس گھر کی مالکہ عورت اپنے گھر کے سامنے زیورات پہنے ہوئے چرخہ کات رہی تھی۔اس نے اس کو پہچان لیا اور ادھر ادھر کوئی آدمی تو تھا نہیں اسے ٹھہرا کر کہا کہ تو نے ہمارے گھر کا سب اسباب لوٹ لیا مگر تو ویسا ہی بدحال ہے۔تیرے جسم پر سالم کپڑے بھی نہیں ہیں اور مجھے دیکھ کہ خدا نے پھر سب کچھ