ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 284
اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کی طرف توجہ ہو۔مجھے تو خدا تعالیٰ نے آپ قرآن پڑھایا ہے اور میں نے بعض آیتوں کو خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے پڑھا ہے۔دوسروں کو اس کی سمجھ نہیں آ سکتی کہ کس طرح پر پڑھا مگر میں نے تو پڑھا ہے۔آپ کو بھی چاہئے کہ قرآن مجید کے تلفظ کو صحت کے لئے ادا کرنے کی طرف توجہ کریں اور تیمور بھی توجہ کرے اور تیاری کرے۔تبلیغ اسلام ایام علالت میں بھی جس طرح پر آپ کو موقعہ ملتا ہے اور کوئی تقریب پیدا ہو جاتی ہے تو تبلیغ اسلام و تعلیم قرآن کریم کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہیں۔۱۲؍ دسمبر ۱۹۱۰ء کو پنڈت بہو رام صاحب صریح ضلع جالندھر سے حضرت کی زیارت اور عیادت کو بتوسط منشی فرزند علی صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ فیروز پور حاضر آئے۔پنڈت صاحب موصوف چونکہ منشی فرزند علی صاحب کے استاد زادہ ہیں اس لئے انہوں نے ہی حضرت سے آپ کو ملایا۔اس تقریب پر حضرت اقدس نے نہایت قیمتی تقریر فرمائی جس نے پنڈت صاحب کو بہت ہی متاثر کیا۔اور وقتًا فوقتًا آپ کے ارشادات کی تصدیق کرتے رہے جس سے ان کی سعادت مند فطرت کا پتہ لگتا ہے۔حضرت نے انہیں خطاب کر کے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمام موجودات کو انسان کی خدمت کے لئے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمام چیزیں انسانی خدمت میں مصروف ہیں ارضی اشیاء اور اجرام سماوی جس قدربھی ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ میں انسان ہی کی خدمت گزار ہیں اور یہ بات تھوڑے سے غور سے معلوم ہو سکتی ہے۔پس وہ لوگ جو ان چیزوں کو اپنا معبود بتاتے ہیں نہایت غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں … حالانکہ وہ تو انسان کی خادم ہیں مخدوم بھی نہیں پھر معبود کیوں کر ہو سکتی ہیں۔اسی نظارہ سے ثابت ہے کہ جس قدر حقیقی خدا کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں اسی قدر خادموں کو معبود بنا لیتے ہیں۔فرمایا۔جو کام انسان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بُعد کا موجب ہوں ان سے بچنا چاہئے۔ایسے کاموں کا نتیجہ کبھی نیک نہیں ہو سکتا بلکہ نہایت ہی برا ہوتا ہے۔دیکھو عیسائیوں نے جب حقیقی خدا کو چھوڑ