ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 279
چاہتے تھے کہ وہ ۱۰ بجے کی گاڑی میں سوار ہو سکیں۔۱۲ کی شام کو قبل مغرب سیکرٹری صاحب سے وہ اس کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔اتفاق سے میں بھی پہنچا۔میں نے اس کو سخت حقارت کی نظر سے دیکھا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے طالب علم عید کے دن جو یوم النحر ہے قادیان سے کھیلوں کے مقابلہ پر جائیں۔اور وہ قوم جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اظہار کرتی ہے اپنے سکول میں ایسا نمونہ قائم کرے۔جناب مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری صدر انجمن بھی اس کو کراہت ہی کی نظر سے دیکھتے تھے اور پسند نہیں کرتے تھے کہ لڑکے عید پر ٹور نامنٹ کو ترجیح دیں مگر مولوی صدر الدین کا منشا معلوم ہوتا تھا کہ لڑکے چلے جاویں اور وہ راہ میں نماز پڑھ لیں۔یا اگر نماز یہاں ہی پڑھیں تو خطیب اور امام جلدی ختم کر دے۔مجھے تو یہ طریق سخت ہی مکروہ معلوم ہوا کہ خطیب اور امام کو نماز یا خطبہ کے جلد ختم کرنے کے لئے کہا جاوے اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے یہ سخت ہتک دلانے والی بات تھی۔بالآخر یہ طے ہوا کہ وہ حضرت کی خدمت میں آپ عرض کریں۔چنانچہ مولوی صدر دین صاحب نے پوچھا تو حضرت کو سخت ناگوار گزرا اور فرمایا۔میں تو ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتا اور جائز نہیں سمجھتا کہ عید کے دن سفر کیا جاوے۔اور پھر سفر بھی کھیلوں کے لئے ہرگز نہیں جانا چاہئے۔اور اگر تمہیں کوئی خوف ہے تو لکھ دو کہ نور الدین نے اجازت نہیں دی۔یہ مفہوم تھا حضرت کے کلام کا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ دن سنت ابراہیمی کا ایک ایسا دن ہے جو شعائر اللہ میں داخل ہے اس کی عظمت مومن کا فرض ہے۔غرض حضرت نے ایک لحظہ کے لئے بھی گوارا نہ کیا کہ کھیلوں کے مقابلہ کو یوم النحراور شعائر اللہ پر ترجیح دیں۔میں اس امر کو افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ کھیلوں کو ایسی ترجیح دی جاتی ہے جو نہایت ناپسند امر ہے۔اسی سلسلہ میں میں حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کے اور واقعات جو اسی سے متعلق ہیں بیان کرتا ہوں۔ایک مرتبہ آپ مدرسہ میں سے گزرے۔اتفاق سے ساتھ لڑکے مورچال چل رہے تھے۔آپ نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا۔یہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہے۔اور مجھے افسوس ہے تعلیم الاسلام کے مدرّس اتنا بھی نہیں جانتے۔اور آپ نے اس وقت یہ آیت پڑھی۔