ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 276

رکھتا خدا کا دیا ہوا سب کچھ ہے یہ خود مجھے الہا م ہوا ہے۔اور یاد رکھو کہ دنیا کی کسی ترقی کو اسلام نہیں روکتا۔نوکری کرو۔تجارت کرو۔مزدوری کرو۔میں تمام مذاہب پر ریویو کر کے دکھلا سکتا ہوں کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔انسان کے روح اور جسم ہر دو کی تربیت کرتا ہے۔جو مذہب کہتا ہے کھانے پینے کی فکر نہ کروہ جھوٹا ہے۔اسلام نے یہ دعا سکھلائی ہے۔ (البقرۃ:۲۰۲)۔مولویوں نے اسلام کو مشکل بنایا ہے مگر اسلام در اصل مشکل نہیں۔مومن کی تین خوشیاں فرمایا۔فتوحات مکیہ میں لکھا ہے کہ مومن کو تین خوشیاں ہیں جب اُسے کوئی مصیبت پہنچے۔(۱)ایک تو یہ کہ عذاب دنیا ہی میں ملے گااور آخرت کا عذاب تو بہت ہی شدید ہے۔(۲)عذاب تبدیلی بھی ہوتا ہے یعنی آدمی مرتد ہو جاوے۔شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔(۳)پھر عذاب کے کئی مراتب ہیں۔شکر ہے کہ ادنیٰ پر کفایت ہوئی۔آپ کی سات خوشیاں فرمایا۔مجھے تو سات خوشیاں ہیں۔تین یہ۔تین کا ذکر قرآن مجیدمیں ہے جہاں فرمایا ہے۔(البقرۃ:۱۵۸)۔اور ساتویں یہ کہ ہر مصیبت میں صبر و شکر سے ایک نعم البدل ملتا ہے جیسے ام سلمہ نے صبر و شکر کیا تو خدا نے اسے ابو سلمہ سے بہتر بدلہ دیا یعنی حضرت خاتم النبیین سا خاوند۔اور پھر یہ بھی خوشی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی سواری سے گر پڑے تھے تو ان کے دائیں طرف تکلیف پہنچی تھی۔چنانچہ حدیث میں ہے۔فَجُحِشَ شقہ الایمن (بخاری ابواب تقصیر الصلٰوۃ باب صلٰوۃ القاعد)۔میرا بھی دایاں طرف ہی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔( البدر جلد ۱۰ نمبر۷ مورخہ ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ۵) ضرورت رفیق عاجز (مفتی محمد صادق )اور مولوی سید سرور شاہ صاحب حسب الحکم حضرت خلیفۃ المسیح منگھیر علاقہ بنگال کو جاتے ہیں۔اس کے مطابق ہم منگل کے دن ۸؍نومبر۱۹۰۱ء کی صبح کو قادیان سے روانہ ہوکر امرتسر