ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 275

مجھے کوئی دکھ نہیں دیتیں۔میں تو سارا دن قرآن شریف کے عجائبات پر ہی غور کرتے کرتے بسر کر دیتا ہوں۔میری تو زندگی ہی یہی ہے۔اگر قرآن شریف جیسی نعمت میرے پاس نہ ہوتی تو میں سخت دکھ میں ہوتا۔خدا تم پر رحم کرے تم پر کرم کرے تم پر اپنی غریب نوازی دکھائے۔تمہیں قرآن کا فہم عطا فرماوے اور اس کی سمجھ دے۔قرآن کو اپنے دلوں میں لگائو اس کو پڑھو اس پر عمل کرو۔یہ ایک جنت ہے اگر معنے نہیں جانتے تو اس کے لفظ ہی پڑھو۔( البدر جلد ۱۰نمبر۶ مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ۳) ایک نو مسلم کو نصائح حضرت خلیفۃ المسیح سلمہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے روبصحت ہے۔بہ نسبت سابق بہت آرام ہے اب بخار نہیں ہوتا کھانسی بھی نہیں ہے۔ضعف بہت ہے مگر پہلے سے کم۔زخم تدریجاً اچھا ہو رہا ہے کسی قدر بے خوابی کی گاہے تکلیف ہوجاتی ہے۔لب پر جو زخم تھا وہ قریباً اچھا ہو گیا ہے اس واسطے بولنے اور کھانے پینے میں پہلے کی طرح تکلیف نہیں ہوتی۔باوجود اس حالت کے صبح شام قرآن شریف سنا کرتے ہیں بعض آیات پر کچھ فرماتے بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی قیمتی نصائح سے متمتع کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ مسٹر مارکوئس ( نومسلم ) عیادت کے واسطے حاضر ہوئے تو انہیں مخاطب کر کے فرمایا۔خدا تعالیٰ کی بڑائی اصل اصولِ اسلام ہے اسلام کیا ہے خدا تعالیٰ کی بڑائی بہت بڑائی۔وہ وراء الوریٰ ہے اس کی ذات میں کوئی بھی شریک نہیں، افعال میں کوئی شریک نہیں، صفات میں کوئی شریک نہیں، اسماء میں کوئی شریک نہیں، عبادت میں کوئی شریک نہیں۔خدا تعالیٰ کی بڑائی اصل اصولِ اسلام ہے۔اللہ کا لفظ کسی بت پر نہیں بولاجاتا۔اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی سے دعامانگی نہیں جاتی۔جزا و سزاء پر اعتقاد۔اللہ تعالیٰ کی کتابیں آئیں۔قرآن شریف ان کا جامع ہے۔قرآن شریف کا اصل منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی ہو اور محمد ؐ کا رسول اللہ ہونا ثابت کیا جاوے۔نماز اللہ کے نام سے شروع ہوتی ہے اور اللہ کے نام پر ختم ہو تی ہے۔ایسا ہی اذان اللہ کے نام پر شروع ہوتی ہے اور اللہ کے نام پر ختم ہوتی ہے۔دنیوی کاموں سے اسلام نہیں روکتا۔شراب، زناو غیرہ اشیاء جو مضر ہیں ان سے روکتا ہے۔مجھے الہام ہوا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔کیا معنے؟ـ کوئی شخص اپنی ذات میں کوئی کمال نہیں