ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 274

ڈاکٹررشید الدین کو مخاطب کر کے فرمایا۔میں اچھا ہوں بہت شکر ہے اگر یہ ابتلا نہ ہوتا تو آپ کو عیادت کا ثواب کیونکر ہوتا۔فرمایا۔میرا دل مطمئن ہے اس ذات کے برابر مجھے کوئی محبوب اورپیار انہیں نہ کوئی اس جیسا میرا حامی و مددگار ہے اس کا کرم اور فضل حدسے زیادہ میرے ساتھ شامل ہے۔ایسے وقت میں مجھ کو اس نے ایسی ایسی جگہ سے رزق پہنچایا ہے انسان کا وہم وگمان نہیں پہنچ سکتا۔گویا طب کے پیشے میں جو ستاری تھی ان دنوں میں اس کو بھی دور کردیا ہے اور مخفی طریقوں سے رزق دیا ہے۔میرے گھر میں جو کچھ رزق پہنچا ہے اس میں کسی کا کوئی احسان جلوہ گر نہیں صرف اسی اللہ کا احسان ہے اور یہ امر دیکھنے والوں کی نظروں میں بہت عجیب ہے۔(الحکم جلد ۱۴ نمبر۴۱ مورخہ ۷؍دسمبر ۱۹۱۰صفحہ ۱۰) ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے حضرت خلیفۃ المسیح باوجود اس قدر ضعف اور علالت کے وقتاً فوقتاً خدام کو وعظ فرماتے رہتے ہیں اور اپنی پُر اثر کلام سے مستفید کرتے رہتے ہیں۔آج ( ۲۹؍نومبر) کی صبح جب زخم پر ڈ رسنگ ہو چکا تو فرمایا۔مجھے اٹھا کر بٹھائو۔جب بٹھایا گیا تو فرمایا۔(العنکبوت:۳) میرا ربّ میرا پرورد گار، تمام عالم کا ربّ فرماتا ہے کہ کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ اتنے پر چھوڑ دئیے جاویں گے کہ صرف منہ سے کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان پر کوئی فتنہ نہ پڑے۔یہ غلط خیال ہے۔ابتلائوں کا آنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کا رحم ہے، کرم ہے، غریب نوازی ہے جو بہت سی غلطیوں پر پردہ پوشی کی جاتی ہے اور کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا جاتا کہ اس نے یہ گناہ کیا ہے۔خوش قسمت وہ جو کہ ابتلاء کے وقت شکایت نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتے ہیں خدا کی رحمت ان پر نازل ہوتی ہے۔بد قسمت ہے وہ جو ابتلاء کے وقت پیچھے ہٹتا ہے او رشکایت کرتا ہے۔میرے پیارو ! قرآن بڑی نعمت ہے اس تکلیف میں وہی میرا سہارا ہوا ہے۔یہ زخم اور چوٹیں