ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 272
ایک خاص ارشاد حضور باوجود ضعف و نحافت کے اپنی جماعت کو کچھ نہ کچھ بطور نصیحت فرماتے رہتے ہیں۔چنانچہ آج ۲۹؍ نومبر ۱۹۱۰ء تیسرے پہر جب فاضل جلیل عالم نبیل مولانا مولوی محمد احسن صاحب امروہہ سے اور ڈاکٹر خلیفہ رشیدا لدین صاحب پرتاب گڑھ سے تشریف لائے اور حضرت کی خدمت میں عیادت کے واسطے حاضر ہوئے تو فرمایا ’’مفتی محمد صادق کو بلاؤ۔‘‘عاجزقدموں میں حاضر تھا۔عرض کی گئی کہ بندہ حاضر ہے۔ارشاد کیا کہ’’ کاغذ قلم لو‘‘ اور مفصلہ ذیل الفاظ لکھائے جو ناظرین کو جلد پہنچانے کی خاطر خصوصیت کے ساتھ اخبار میں شامل کئے جاتے ہیں۔ایڈیٹر فرمایا۔ابتلاء دنیا میں تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ قسم ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے( البقرۃ : ۱۲۵) (اور جب ابراہیم پر اس کے ربّ نے بعض باتوں سے ابتلاء ۱؎ ڈالا تو اس نے ان کو پورا کیا)۔دوسری قسم وہ ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (الاعراف : ۱۶۹) (اور ہم نے ان کو دکھوں اورسکھوں کے ابتلا میں ڈالا تا کہ وہ رجوع کریں)۔اور تیسری قسم وہ ہے جس کی نسبت فرمایا ہے ( الاعراف : ۱۶۴) (ہم ان کو ابتلا میں ڈالتے ہیں بسبب اس کے کہ انہوں نے فسق اختیار کیا) اللہ تعالیٰ نے اسلام میں حسن ظن کا حکم دیا ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے ( الحجرات : ۱۳) اور حدیث شریف نے تو مطلقاً سوء ظن سے منع ہی کیا ہے چنانچہ فرمایا ہے اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ(بخاری کتاب الوصایا باب قول اللہ تعالٰی من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین)۔مجھ پر جو ابتلاء اس وقت آیا ہے یہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی غریب نوازیوں، رحمتوں اور فضلوں کا نمونہ ہے اللہ تعالیٰ نے بہت سے دلوں کی حالت کو جن کے ساتھ محبت ۱؎ نوٹ : کسی شخص کے اندر جو جوہر رکھا گیا ہے اسے ظاہر کر دینے کو ابتلاء کہتے ہیں۔