ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 26

عورت ہر امر میں اس کی ہم خیال اور مرضی کے موافق ضرور ہو گی۔قابل قدر دلی ایمان ہے ملک عادل شاہ صاحب نے ترنگ زئی سے مجھے خط لکھا کہ حضرت خلیفہ صاحب اپنے نام کے ساتھ لفظ احمد لکھا کریں تو خوب ہو۔( یعنی نو رالدین احمد )۔فرمایا۔آجکل یہ رواج ہے کہ لوگ اس طرح کے ناموں کے ساتھ لفظ احمد بڑھا دیتے ہیں یعنی سراج الدین احمد وغیرہ اور کوئی لکھ دے تو میں اس کو برا نہیں مناتا۔لیکن میرے نزدیک یہ صرف ظاہری باتیں ہیں ان کی ضرورت نہیں۔میرے لئے وہ ایمان کافی ہے جو میرے دل میں ہے اور خود لفظ نورالدین اپنے معنوں میں بہت بڑا لفظ ہے۔دھوکے سے نکاح ناجائز ہے ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں خط لکھا کہ میری ایک جگہ نسبت ہو چکی ہے مگر میں اُسے پسند نہیں کرتا۔ہاں چاہتا ہوں کہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ اس لڑکی کی شادی کر ادوں۔کیا یہ جائزہوگا کہ نکاح تو میں کر لائوں اور پھر طلاق دے کر اپنے بھائی کے ساتھ اس کا نکاح کر ادوں؟ فرمایا۔اس کو لکھا جائے کہ یہ دھوکا ہے اور ہرگز جائز نہیں مومن کو چاہیے کہ صاف بات کرے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔دنیا میں عورتوں کی کمی نہیں۔متقی کے واسطے خدا تعالیٰ سارے سامان خود مہیا کردیتا ہے۔لڑکی والوں کو صاف کہہ دینا چاہیے کہ ہم اس لڑکے کے واسطے نہیں بلکہ چھوٹے کے واسطے درخواست کرتے ہیں اور دعا کرنی چاہیے کہ خد اتعالیٰ وہ کام ہونے دے جو احسن ہو۔مولوی فضل دین صاحب مرحوم خوشاب مولوی صاحب موصوف کی وفات کی خبر حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پہنچی۔فرمایا کہ ان کا جنازہ جمعہ کے دن پڑھا جاوے۔بڑے مخلص آدمی تھے اور دلیر مخلص تھے اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔