ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 265 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 265

حضرت کی عجیب احتیاط مومن بڑا ہی با خبر اور محتاط ہوتا ہے۔میں نے حضرت کی بعض باتوں کو نہایت عجیب احتیاط کا نمونہ پایا ہے۔ا یک دن آپ نے اوائل ایام علالت میں فرمایا کہ میرے حواس اِس وقت درست ہیں اور موت کا کوئی وقت معلوم نہیں۔میں چاہتا ہوں تمہارے لئے ایک وصیت لکھ دوں۔تم آپس میں مشورہ کر لو۔ڈاکٹر صاحبان او رنواب صاحب اور پھر حضرت صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود صاحب کو بلا کر کہا کہ آپ اپنے بھائیوں کو بلا کر مشورہ کر لیں۔حضرت کی امانت کی درخشاں مثال حضرت نے فرمایا۔ہماری امانتوں کا انتظام خدا کے فضل سے بہت محفوظ ہے اور ہر شخص اپنی امانت جس وقت چاہے لے سکتا ہے۔ہم امانت کو اسی طرح رکھتے ہیں جس حالت میں کوئی دیتا ہے۔ہمارے گھر والے بھی اسے خوب جانتے ہیں۔کسی امانت پر جو ہمارے پاس ہو ہماری زندگی یا موت سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس پر عرض کیا گیا کہ حضور عبدالرحمن کہتا ہے کہ میرے پاس رسید نہیں۔فرمایا۔’’کچھ پرواہ نہیں۔اس کی امانت کے ساتھ رسید ہو گی اُسے دیکھو اور ابھی دے دو ‘‘ چنانچہ جب اس کی امانت کو دیکھا گیا تو اس کے ساتھ حضرت کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی رسید موجود تھی اور اس کے ساتھ ہی امانت کا روپیہ تھا جو فوراً ادا کر دیا گیا۔وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ۔قرآن کریم کی آیات پر تدبر ایک دن مغرب کی نماز کی نیت باندھی اور نیت باندھنے کے ساتھ قرآن مجید کی ایک آیت پر غور شروع ہو گیا۔قریباً دو گھنٹہ اسی حالت میں گزر گئے اور نماز پوری نہ ہو سکی تو فرمایا۔کیا کروں نماز نہیں پڑھی گئی۔صوفیوں والی حالت ہو گئی اور ایسی نماز شروع ہو ئی جس کا سلام