ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 264
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اس پیشگوئی کو کس عظمت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ پر آپ کو کیسا ایمان ہے۔اسی ضمن میں فرمایا کہ وہ منشاء سرکاری اس وقت ظاہر ہو گا جب وہ شفادے گا۔پانی میں شفا اسی سلسلہ میں ایک روز حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ مجھے پانی دو۔اور میرے لئے تو پانی ہی میں شفا ہے۔میں جب پانی پیتا ہوں تو میرے قلب کو تسکین ہوتی ہے۔پانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (الانبیاء:۳۱)پانی ہر شے کے لئے زندگی بخش ہے۔اور قرآن مجید میں وحی الٰہی کی مثال پانی سے دی ہے اور وحی الٰہی کے متعلق بھی فرمایا فیہ شفاء و نور پس پانی میرے لئے بہت مفید ہے۔آپ یہ فرما چکے اور پانی مانگا۔شیخ تیمور صاحب جو حضرت کی اس علالت میں کھانے پینے اور ادویات کا ذخیرہ رکھنے والے تھے۔حضرت کے لئے میٹھوں کا پانی نکال کر لائے کیونکہ ڈاکٹروں نے یہ تجویز کیا ہوا تھا۔حضرت نے دو مرتبہ اشارۃً اسے رد کیا اور آخر کو پیا تو فرمایا کہ ’’یہ پانی نہ تھا‘‘ اور شیخ تیمور صاحب کو فرمایا کہ’’ ہم چاہتے ہیں تم ہمارے مزاج شنا س بنو‘‘ اس کے بعد پھر آپ کو پانی پلایا گیا۔تو آپ نے نہایت سکینت کے ساتھ پیااور الحمد للّٰہ کہا۔بلاوجہ بیٹھنے پر اظہار ناپسندیدگی دوران علالت طبی احتیاط کی غرض سے دروازہ پر پہرہ مقرر کیا گیا اور کثرت کے ڈر سے احباب کو اندر جانے سے روکا گیا تو بعض آدمیوں نے حضرت کے کانوں تک اس بات کو پہنچایا۔حضرت نے فرمایا کہ ’’ ہم نے کسی کو نہیں کہا کہ پہر ہ بٹھائو۔اور نہ مجھے علم ہے کہ کوئی پہرہ بٹھایا گیا ہے۔اور پھر یہ بھی فرمایا کہ میں یہ بھی مناسب نہیں سمجھتا کہ ہر وقت یہاں ہی بیٹھے رہیں۔اپنا کام کاج بھی کرنا چاہیے۔جب جوش آتا ہے تو آ کر دیکھ لینے سے وہ جوش دب جاتا ہے۔بہر حال ہم نے کسی کو روکنے کے لئے نہیں کہا۔‘‘