ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 263

ایک تاریخی غلطی عام طور سے یہ مشہور ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی سو منات میں گئے تو وہاں بت کے پجاریوں نے بہت سے جواہرات پیش کئے کہ یہ لے لیجئے اور بت نہ توڑئیے مگر سلطان محمود نے ان کی بات نہ مانی اور جب بت توڑے تو اس کے پیٹ سے اتنے جواہرات نکلے جو اس پیش کردہ مال سے دگنے چوگنے تھے۔سوم کہتے ہیں چاند کو۔ناتھ مالک کو۔اور یہ شو جی ہیں ہندوستان میں شوجی کے لنگ کی پوجا ہوتی ہے۔لنگ ایک مضبوط و ٹھوس جسم ہے اس میں خول کہاں جہاں جواہرات بھرے ہوتے۔پس یہ قصہ ہی غلط ہے۔ایسا ہی شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا مصرع ہے کہ دیدم بت عاج در سو منات۔حالانکہ ہاتھی دانت مذہبی طور سے ان ہندوئوں میں ممنوع ہے۔اس کا بت کب بنانے لگے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا فرض فرمایا۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ بہت دعائیں کریں بہت دعا کریں۔نمازوں میں بھی، تنہا اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے اور باہر جنگل میں جا کر۔(۲)ہر ایک فرد اپنی اپنی ہمت کے مطابق امن و راستی سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی تبلیغ کرے اور جو اعتراضا ت مخالفین سے اللہ کے کلام پر، اللہ کے رسولوں پر ہوتے ہیں ان کی تردید میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھے یا تقریر کرے۔اور جو اَن پڑھ ہے وہ اپنا نمونہ ہی نیک بنائے اور اس طرح مجسم و عظ بنے۔(البدر جلد۱۰نمبر۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۳) علالت میں عظیم الشان منشاء سرکاری حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک روز فرمایا کہ میری اس علالت میں کوئی عظیم الشان منشاء سرکاری معلوم ہوتا ہے جو اتنے سال پہلے مرزا کو یہ واقعہ دکھایا ( یاد رہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح شدت پیار کی وجہ سے عموماً حضرت اقدس کو مرزا کے نام سے پکارا کرتے ہیں اور اہل زبان اس کا لطف اُٹھاسکتے ہیں۔ایڈیٹر ) اور پھر اس واقعہ کو اسی رنگ میں پورا کر کے دکھایا اور مجھے چارپائی پر ڈال دیا۔