ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 256
جو نہ مانے اس کا کیا علاج مکرم بندہ جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مفصلہ ذیل سوالوں کا جواب حضر ت مولانا جناب مولوی صاحب سے لے کر بواپسی روانہ فرما دیں تو مشکور ہوں گا۔(۱) جماعت میں اگر دو آدمیوں کی باہم عداوت ہو تو جماعت کو یاجماعت کے مسلم سرگروہ کو کیاکرنا چاہیے۔(۲)اگر جماعت یا امام کا کوئی مسلم سر گروہ دونوں کو صلح کرنے کا حکم دے اور ایک شخص صلح سے باوجود بار بار کہنے کے انکار کرے۔تو جماعت کو یا اس مسلم سر گروہ کو اس شخص کے متعلق کیا کرنا چاہیے۔(۳) کیا اس زمانہ میں جماعت کے باہمی اندرونی سیاست کے واسطے بھی کوئی قانون قاعدہ ہے یا نہیں۔یا یہ کہ ممبر جو چاہے کرے اور جماعت اس سے محبت اور برادری کا تعلق برابر قائم رکھے۔جوابات میں اگر کوئی قرآن شریف کی آیت یا حدیث کا حوالہ ہو تو بہتر ہو گا۔مندرجہ بالا خط کا جواب حضرت خلیفۃ المسیح نے مفصلہ ذیل دیا۔(۱)ان کو نصیحت کریں۔اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ (بخاری کتاب الایمان باب قول النبیؐ الدین النصیحۃ) اور نہ تھکیں اور پھر دعا کریں۔(المؤمن:۸)۔(۲)بعد نصیحت اور دعا کے پھر اس کے لئے بالا دست لوگوں کو اطلاع دی جاوے اور اگر پھر نہ مانے تو اس کو جماعت سے الگ یقین کر یں۔آیت(التوبۃ:۱۱۸) کافی ہے۔(۳)قواعد کا نفاد حکومت پر موقوف ہے یا رُعب پر۔