ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 245

(۳) کبھی صرف نمونہ کے طور پر ایک چیز دکھائی جاتی ہے جیسے کئی سال کے قحط کا نظارہ خشک بالیوں میں دکھایا گیا ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ ایک ہی دجال کا ذکر ہے اور تم نے اس سے قوم کی قوم کس طرح سمجھ لی وہ اس پر غور کریں کہ رؤیا کے معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ابن سیرین کے آگے کسی نے بیان کیا میں نے رؤیا میں اذان سنی ہے۔آپ نے اسے کہا تُو چور قرار دیا جا کر پکڑا جائے گا۔دوسرے نے یہی خواب بیان کیا توکہا تم حج کرو گے۔تیسرے نے بیان کیا تو فرمایا تیرا دشمن خائب و خاسر ہوگا۔لوگوں نے تعجب کیا کہ ایک ہی خواب اور تعبیریں مختلف۔کہا تینوں قسم کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔میں نے ہر ایک چہرے کی فراست سے بتلادیاہے۔(۱) ( یوسف : ۷۱) (۲)  (الحج : ۲۸) (۳) (التوبۃ : ۳)۔نبی جتھے کا منتظر نہیں ہوتا فرمایا۔جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں نبی جتھے کا منتظر رہتا ہے اور پھر لڑائی کرتا ہے۔جب صحابہ میں سے اکثر بھاگ گئے تو اس وقت بنی اکرم نے پکار کر کہا۔اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب کہ دعویٰ کرنے والا تو میں ہوں کوئی اگر بھاگتا ہے تو بھاگے۔احسن القصص سے کیا مراد ہے فرمایا۔لوگوں نے غلطی سے احسن القصص کے معنی بہتر سے بہتر قصہ کئے ہیں۔قرآن مجید میں ہر گز قصے نہیں۔اساطیر الاولین تو کفار کا قول ہے۔یہ بھی غلط ہے کہ یوسف کا قصہ ہی سب سے اچھا قصہ ہے۔خلاصہ سورہ تو یہی ہے (۱) بھائیوں نے آپ سے دشمنی کی۔(۲) اس کی وجہ والد کی محبت تھی۔(۳) آخر اپنے بھائیوں پر غالب آئے معاف کردیا۔(۴) ایک عورت کی ناجائز درخواست کی پروا نہ کی۔حضرت ابراہیم و حضرت موسیٰ ونبی کریم ﷺ کے حالات اس سے بھی زیادہ عجیب ہیں۔(۱)بجائے چند گنتی کے بھائیوں کے سارا جہان دشمن۔(۲) اس کی وجہ کسی کی محبت نہ سمجھیں۔اللہ تعالیٰ