ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 242
تار خبر پر عید سوال آیا تار خبر پر عید ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جواب از امیر المؤمنین ، تار خبر معتبر ہے۔(عید کر لی جاوے) (البدر جلد۹ نمبر۴۸و ۴۹ مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۱) دلائل ہستی باری تعالیٰ (ماخوذ از کلام امیر) راستبازوں کی شہادت تمام راستبازوں کا اس بات پر’’ کامل اتفاق‘‘ سے ایمان کہ’’ اللہ‘‘ ہے۔جتنے راستباز مختلف ملکوں میں ہوئے ہیںان کے حالات سے ظاہر ہے کہ وہ راستی کے بڑے ہی بھوکے پیاسے تھے اور وہ حق بات کے اظہار میں سارے جہان کی مجموعی مخالفت سے بھی نہیں ڈرتے تھے اور صرف یہی ایک قوم ہے جن کو(الاحزاب :۴۰) کا سرٹیفیکیٹ ملا ہے۔(۲) پھر یہ لوگ رسم و مجارٹی کی رائے ( جو کثرت سے پیدا ہو) کے بھی قائل نہیں ہوتے۔اگر ایسا ہوتا تو یہ بت پرستی کی تردید نہ کرتے حالانکہ بت پرست دنیا پر زیادہ ہیں۔باوجودیکہ یہ لوگ آپس میں ملے بھی نہیں پھر بھی ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک اللہ ہے۔پس جیسا کہ ہم لنڈن کا وجود بہت سے سچ بولنے والوں کی شہادت سے تسلیم کرتے ہیں ایسا ہی خدا تعالیٰ بھی ضرور ہے۔ا لٰہی پیش خبریوں کا پورا ہونا دوسری دلیل یہ ہے کہ جو بات یہ لوگ خدا سے اطلاع پا کر کہتے ہیں وہ ضرور اٹل ہوتی ہے۔حالانکہ آئندہ کے واقعات معلوم کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے۔دنیاوی تدابیر سے کام لینے میں نپولین و سکندر سے بڑھ کر کوئی نہیں مگر یہ دونوں ناکام مرے ہیں۔حتی کہ نپولین کی قوم فرانسیسی کا باوجود بہت خرچ کرنے کے مشرق میں کچھ بھی نہیں۔