ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 241
طرف رکھا جاوے تو ان لوگوں کے انصاف پر جو مرزا صاحب کے دعاوی کی نسبت فتاویٰ تیار کر رہے ہیں کیا وجد آسکتا ہے کہ نہیں۔مرزا صاحب کے متعلق میں جناب کو ایک شعر سناتا ہوں جو میں نے ان کی زبان سے علیٰ روس الاشہاد سنا ہے۔بزہد و ورع کوش و صدق و صفا ولاکن میفزائے بر مصطفیٰ اس شعر کے بعد جناب کا جواب کافی سے زیادہ ہو سکتا ہے مگر پاس خاطر سے عرض ہے۔عید کے دن مرزا صاحب غسل فرماتے اور تجدید لباس کرتے اور خوشبو لگا کر مع احباب کے عیدگاہ میں تشریف لے جاتے تھے اور گاہے اس جامع مسجد میں جہاں ہم لوگ جمعہ پڑھتے ہیں وہاں بھی عید پڑھ لیتے تھے۔عید کا خطبہ ہمیشہ یہ خاکسار پڑھ دیتا تھا یا مولوی عبدالکریم۔واپسی میں دوسرے رستے سے گھر میں تشریف لاتے تھے۔صدقۃ الفطر پہلے جمع کیا جاتا تھا اور قربانی کی عید میں بعد نماز کے معاً قربانی کرتے تھے۔میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی کے گلے لگے ہوں یا کسی کو پان دیا ہو۔عید گاہ میں ہی نئے آئے ہوئے دوست مصافحہ کر لیتے تھے۔سیرو تفریح کے لئے کہیں نہیں جاتے تھے کوئی خصوصیت نہ تھی۔اقارب سے بھی کوئی خصوصیت کی ملاقات اس دن نہیں کرتے تھے۔راستہ میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ پڑھنے کی عادت تھی۔مگر آہستہ پڑھتے اور بعض لوگ بلند آواز سے پڑھتے تو روکتے نہ تھے ………… مکرر عرض ہے کہ معانقہ عام طور پر قطعاً ان کی عادات میں نہ تھا۔والسلام نور الدین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔