ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 237
بیوہ کی پہلی اولاد کی کفالت ایک دوست نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا بیوہ کے ناکح پر بیوہ کی پہلی اولاد کی کفالت لازم ہے؟ فرمایا کہ لازم ہے۔اگر وہ شخص اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا کہ ان کی کفالت کر سکے تو اسے چاہیے کہ ایسی بیوہ سے نکاح نہ کرے کیونکہ بیوہ کے بچے یتیم ہیں ان کی حق تلفی ظلم ہے۔وہ ہر طرح سے قابل رحم ہیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ان کی تربیت میں کوئی نقص واقع ہونے کا اندیشہ ہو۔(البدر جلد ۹ نمبر۴۴ مورخہ ۲۵ ؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ۷) ایک خط اور اس کا جواب سوا ل تسلیم۔بندہ کو بموجب ناجائز تعلیم والدین کے علم توحید سے لا علمی ہے جس سے اسلام مشرف ہے۔چنانچہ ہم اپنے اوتار (یعنی شہدا، صالحین، صدیقین ونبیین ) کو زندہ، قائم، پاک، بزرگ، رحیم اور کریم جانتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔اے حی وقیوم جو موت اور فنا سے پاک ہے۔دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ خدا کی ذات اور صفات کے ساتھ کسی مخلوقات کو سانجھ کرنا یہ بھی شرک عظیم ہے۔میرے خیال میں جب کہ موت اور فنا ہر چیز کے لئے ضروری ہے تو پھر سب مخلوقات کی ذات وصفات بعد موت اور فنا کے جو خالق کی طرف سے عطا کی گئی ہے یہ سب نیست و نابود ہو جاوے گی۔موت اور فنا میں کیا فرق ہے؟ حضرت محمد صاحب کیا خدا کے نور سے ہیں اور کل اوتارانہیں کا ظہور ہے۔اشرف المخلوقات ، اشرف انبیاء اور سردار حضرت آدم کی اولاد کے ہیں۔یہ سب باتیں جو زیر قلم ہیں حضرت خلیفۃ المسیح خود دست مبارک سے تسلی فرماویں تاکہ بندہ اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں لاکر حضرت صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرے گا اور حضرت صاحب کے مال وجان کو دعا دیتا رہے گا اور ہم نے پر میشر کی طاقتوں کو حصہ رسدی منقسم کر چھوڑا ہے اس واسطے میرا دل اب لغیر اللہ پرستش سے بیزار ہے اور حق کا خواستگار ہوں۔اور میں اس وقت اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا امید آپ معاف فرما دیں گے۔( آپ کا نیاز مند۔گمراہ اور طالب حق )