ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 221
اسی وقت طوفان تھمنا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر میں بالکل امن ہو گیا۔نادان لوگ ان باتوں پر ہنسی کرتے ہیں مگر یہ واقعات ہیں۔؎ فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس انبیاء بیگانہ است صدقہ و خیرات سے علاج ایک شخص نے عرض کی کہ میری اولاد کچھ پاگل ہے اور کچھ نالائق ہے۔فرمایا۔کچھ خیرات کرو اور دعا کرو اور استغفارکرتے رہا کرو اور ہرگز نہ تھکو۔اللہ تعالیٰ سے ناامید نہ ہو۔خدا اپنے فضل سے سب کام ٹھیک کردے گا۔فرمایا۔ہمت ہارنا اور ناامید ہونا توکفر ہے۔مومن کا کام نہیں کہ کبھی ناامید ہوجاوے۔بلکہ کوشش کرتا جائے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھے۔اہل لاہور کو نصیحت لاہور میں جن لوگوں نے بیعت کی ان سب کو یہ نصیحت فرمائی کہ غفلت کی صحبت سے بچتے رہو۔اور اگر کوئی مجبوری پیش آوے تو استغفار بہت کرتے رہو۔غالباً اس واسطے فرمایا کہ بڑے شہروں میں غفلت کے سامان بہت مہیا ہو جاتے ہیں۔ایک شیعہ کا خط اور اس کا جواب لاہور میں کوئی ایرانی شیعہ مولوی واعظ آئے ہوئے ہیں۔ایک شیعہ نے برادرم ملک غلام محمد صاحب احمدی کو کہا کہ ہمارے ایرانی مولوی صاحب قادیان جائیں اگر تمہارے خلیفہ صاحب ان کے ساتھ بات کرنا چاہیں۔ملک صاحب نے حضرت کی خدمت میں یہ بات پیش کی اور حضرت نے اجازت دی۔جس پر اس نے پھر ایک خط لکھا جو کہ ملک صاحب نے حضرت خلیفہ صاحب کی خدمت میں لاہور میں پیش کیا۔حضرت صاحب نے اسی وقت اس کا جواب لکھ دیا چنانچہ وہ خط اور جواب ہر دو درج ذیل کئے جاتے ہیں۔