ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 219
مکتوب حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ تحریر کردہ عبارت ذیل میں عبارت حضرت مولوی نور الدین صاحب کی ہے جو حضرت صاحب کے حکم سے مراسلہ موصوف (مذکورہ مکتوب مکتوبات احمد جلد اول مکتوب نمبر ۲۶ بنام مولوی سلطان محمود صاحب صفحہ ۴۸۳ و ۴۸۴ پر ملاحظہ کریں)کے نیچے لکھی گئی کیونکہ معلوم ہوا تھا کہ صاحب مکتوب الیہ کی مولوی صاحب سے سابقہ معرفت ہے۔اس لئے حضرت صاحب نے مناسب خیال فرما کر مولوی صاحب کی طرف سے تھوڑا سا مضمون لکھوا دیا۔وہ یہ ہے۔خاکسار نور الدین بگرامی خدمت قاضی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش پرداز سرور عالم فخربنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَایُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتّٰی یُحِبُّ لِاَ خِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ (بخاری کتاب الایمان باب من الایمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہٖ) پس بامتثال امر خاتم النبیین رسول ربّ العالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام الی یوم الدین۔دردِدل سے عرض ہے کہ جناب امام الزمان علیہ الرضوان کے ارشاد کودنیا کی بے ثباتی پر نظر کر کے غور سے پڑھیں اور بجائے اس کے کہ آپ گزشتہ بزرگان کی قبور پر توجہ فرما دیں زندہ امام کے انصاراللہ میں اپنے آپ کو منسلک کر دیں سارے کمالات اور الٰہی رضامندی اطاعت میںہے اور بس۔نور الدین ۷؍ شعبان ۱۳۱۷ھ (الحکم جلد ۱۴ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۷) لاہور میں پہنچنا ۲۵؍جولائی ۱۰ ۱۹ء کی صبح بٹالہ سے روانہ ہو کر ہم(مفتی محمد صادق ایڈیٹر البدر ، حکیم محمد عمر) ایک بجے کے قریب لاہور میں پہنچے۔اسٹیشن پر حکیم محمد حسین صاحب قریشی ملے جنہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ حضرت صاحب تا حال لاہور میں ہیں اور اس وقت شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان پر کھانا کھانے کے