ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 216
عیسائی دنیا نے بند کر دیا ہے۔کیا امریکہ میں کالے لوگوں اور گورے لوگوں کے حقوق یکساں ہیں ؟ کیا ہندوستا ن کے جیل خانوں میں قیدی غلام بلکہ غلاموں سے بدتر حالت میں نہیں ہیں؟ کیا گورنمنٹ کے ہاں پولیٹیکل قیدی نہیں ہوتے؟ برخلاف اس کے اسلام نے غلاموں کے واسطے یہ قانون بنایا ہے کہ ان کومالک اپنے کھانے میں سے کھانا دے اور اپنے کپڑے میں سے کپڑا دے۔ایسی محنت نہ کرائے جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔آج غلام چھوڑ نو کروں کے ساتھ بھی کوئی ایسا حسن سلوک نہیں کرتا۔فرمایا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کا ایک نشان ہے کہ جب مسلمانوں میں ایسا زوال آیا کہ وہ جابجا محکوم ہونے لگے تو خدا تعالیٰ نے ان کی حاکم قوموں کے دلوں میں غلامی کے متعلق نفرت ڈال دی تاکہ اسلامی مرد اور عورتیں ذلت میں نہ پڑیں۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص رحم ہے جس کے واسطے سجدہ شکر کرنا چاہیے۔ورنہ یورپین اقوام میں غلام اور لونڈی رکھنے کا رواج ہوتا تو آج اسلامی دنیا پر کیا مصیبت وارد ہوتی۔خاندان حضرت شاہ ولی اللہ فرمایا۔بچپن سے میرے کان میں خدا کا نام ڈالاگیا ہے۔میری بھاوج نے جو مجھے اپنی گودی میں لے کر لوری دی تو یہ آواز میرے کان میں پڑی۔اَنْتَ الْھَادِیْ اَنْتَ الْحَقَّ۔اس آواز نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔سب سے پہلے میں نے اردو زبان ایک دیوبند کے سپاہی سے سنی اور اُسے بہت پسند کیا۔پھر احسان الٰہی ہے کہ شاہ ولی اللہ کے خاندان کی کتابیں میں نے پڑھیں۔اس خاندان کے طفیل مجھے بہت فائدہ ہے۔سب سے پہلے ایک تاجر کلکتہ سے مجھے ایک پنجسو رہ مترجم بزبان اُردو ملا۔جو مطبع مصطفائی کا چھپا ہوا تھا۔حضرت شاہ ولی اللہ کتاب فو زالکبیر میں قرآن شریف کی تعریف دوسری کتابوں کے مقابلہ میں کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں۔’’اگر او کتاب حکیم است این کتاب احکم الحاکمین است اگر او کتاب عزیز است این کتاب ربّ العزۃ است ‘‘ فرمایا۔اس زمانہ میں بہت سی خوش کن کتابیں بنی ہیں اور ان میں سے بعض میں دین کا حصہ بھی ہوتا ہے مگر قرآن کریم جیسی کوئی کتاب نہیں۔