ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 212 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 212

(فاطر:۱۶) یعنی اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو۔دعا،استغفار کثرت سے کرو۔استغفار سے ہر ایک قسم کی حاجت براری ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ نوح میں نوح علیہ السلام کے زبانی فرماتا ہے۔(نوح : ۱۱ تا ۱۳) یعنی استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا اور تمہیں مال اولاد دے گا۔باغ اگائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔جماعت کو چاہیے کہ درود شریف، استغفار اور الحمد شریف کا کثرت سے وظیفہ رکھیں۔فرمایا کہ میںنے سنا ہے کہ باہر مہمانوں کے کیمپ میں ایک وقت کئی کئی جماعتیں ہوتی رہیں۔مجھے اس کا بہت رنج ہوا۔اگر منتظمین مجھے پوچھتے تو میں انہیں اس کے متعلق نہایت عمدہ مشورہ دیتا۔حضرت نبی کریم ﷺ مقتدیوں کو صفوں کی درستی کی خاص تاکید فرمایا کرتے تھے۔میں خوف کرتا ہوں کہ جہاں تمہارے پاؤں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہوجاتے ہیں دلوں میں بھی ایسا اختلاف پیدا نہ ہوجائے۔قرآن کو پڑھو۔تقویٰ پر غور کرو۔حتی الوسع جہاں جہاں جماعت ہے وہاں مسجد ہونی چاہیے اگر مسجد نہیں تو چبوترہ ہی سہی۔بہرحال نماز باجماعت ادا کرنے کا التزام ہونا چاہیے۔جو شخص جماعت سے الگ رہتا ہے اس کی مثال اس بکری کی سی ہے جو ریوڑ سے الگ ہوجائے وہ زیادہ خطرے میں ہوتی ہے۔بعض لوگ میرے پاس شکایت کرتے ہیں کہ میں فلاں جگہ تنہا ہوں جماعت نہیں۔فرمایا۔مومن اپنے اندر ایک جذب رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔دنیا کماؤ مگر حلال طریقوں سے۔نمازوں کو ہلاک نہ کرو۔عورتوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرو۔والدین اور اعزاء و اقارب سے نیک سلوک کرو۔نیک نمونوں کی تقلید کرو برے نمونوں کو چھوڑ دو۔قادیان والوں کو چاہیے کہ مہمانوں کو نیک نمونہ دکھائیں۔فرمایا۔امام اعظم … ایک روز بارش اور کیچڑ میں جا رہے تھے ایک لڑکے کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر فرمایا۔میاں لڑکے کیچڑ میں سنبھل کر چلو کہیں گر نہ پڑنا۔اس نے جواب دیا میں گروں گا تو