ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 209
سے ہو جاتا ہے۔مثلاً پہلے بال کٹائے پھر البرٹ فیشن کی سوجھی پھر جوتا اُتارا۔بوٹ پہنے۔پائوں دھونے سے رہے۔قمیص کے کف اور کالر کے بگڑنے کے اندیشہ سے وضو بھی چھوڑ دیا پتلون پہنی اس کی وجہ سے نماز رہ گئی۔ہیٹ پہننا شروع کیا لوگوں نے طعن کیا جھنجھلا کر بپتسمہ لے لیا کہ اور نہیں تو سوسائٹی تو اچھی ہے غرض جو تشبّہ شروع کرتا ہے منھم ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اس سے غیرت دینی اٹھ جاتی ہے یہ مشاہدہ کی بات ہے۔(۴)قوم کے ابتدائی زمانہ میں یہ بڑی ضروری بات ہے کہ پُر جوش نو مسلموں کا کسی قسم کا گہرا تعلق دوسری قوم سے نہ رہے سوا اس کے قوم بن ہی نہیں سکتی۔پس اس علیحدگی کے لئے ضروری ہے کہ کسی بات میں ان کا تشبّہ اختیار نہ کرے تا یہ صاف ظاہر ہو کہ اب ہم ان میں سے نہیں بلکہ ان سے بالکل الگ ہو چکے ہیں۔(۵) پھر ایک زمانہ قوم پر آتا ہے جب شیرازہ ٹوٹ جاتا ہے اور قوم میں تنزل آتا ہے اس حالت میں بھی قومیت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں سے تشبّہ نہ ہو بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو سہارا دیں جو غیروں کو سہارا دے گا تو وہ قومی ٹریٹر سمجھا جاوے گا۔مومن کو خوف و حزن نہیں ہوتا ایک دوست کو مخاطب کر کے فرمایاکہ تیرہ چودہ برس سے تم یہاں رہتے ہو کبھی کسی وقت تم نے مجھے غمگین اور پریشان گھبراہٹ میں دیکھا۔اس نے عرض کیا۔ہر گز نہیں۔فرمایا۔مومن لَا خَوْف وَ لَا یَحْزَن ہوتا ہے۔ہم ایک دفعہ گوالیار کی طرف گئے وہاں ایک گروہ کے پاس بیٹھے وہ کچھ دعا کرنے لگے کسی نے ان میں سے پڑھا۔نہ کر عوض میرے عصیان و جرم بیحد کا کہ تیری ذات غفور رحیم کہتے ہیں کہیں نہ کہہ دے عدو دیکھ کر مجھے غمگین یہ اس کا بندہ ہے جس کو کریم کہتے ہیں