ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 20

یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا(سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکرفی قرن المائۃ) اور سورۂ نور کی آیت استخلاف پر تھی اور ہمیشہ مجدد گزرتے رہے۔پس اس صدی کو کیوں خالی چھوڑتے ہیں۔۳۔دعویٰ مہدویت جس کا مدار وہی مکالمات تھے اور حدیث لَا مَھْدِیُ اِلَّا عِیْسٰی(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ) صحیح حدیث اسفار حدیث میں موجود ہے۔منجملہ ان کے ابن ماجہ میں بھی ہے۔مگر جناب نے بہت حقارت و بری نگاہ سے اس کا نام روایت اور مرزا صاحب کی توہین کے لئے فرما دیاکہ حدیث کر کے مرزا نے اس روایت کو پیش کیا ہے۔حالانکہ یہ حدیث ہے اور پھر کیا مجدد مہدی نہیں ہوتا۔انصاف ! انصاف !! ۴۔دعویٰ عیسیٰ ابن مریم ہونے کا۔اس کا مدار بھی مکالمہ الٰہیہ تھا اور قرآن کریم کی آیت(التحریم:۱۳) پر تھی۔اس آیت کریمہ سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مومن جس سے خطا ہو جائے وہ امرأۃ فرعون کی مثل ہے کہ شیطان کے ماتحت ہے وہ تو دعائیں کرے۔ (التحریم:۱۲) اور اس آیت میں ذکر ہے دوسری قسم کے مومن کا۔دوسرا مومن وہ ہے جو محصن ہے وہ مریم ہوتا ہے اور جب اس پر کلام الٰہی کا نفخ ہوتا ہے تو مریم سے ابن مریم ہو جاتا ہے۔اور تیسری وجہ ؎ چون مرا نورے پئے قومے مسیحی دادہ اند مصلحت را ابن مریم نام من بنہادہ اند چوتھی وجہ حدیث صحیح یَنْزِلُ فِیْکُمْ اِبْنَ مَرْیَمَ (صحیح بخاری کتاب البیوع باب قتل الخنزیر) ۵۔آپ کا دعویٰ کہ ابن مریم مر گئے۔اس کے دلائل کے لئے آپ نے اسی۸۰ رسالہ لکھے۔۶۔جو طبعی موت سے مر گئے وہ دنیا میں بایں جسم عنصری واپس نہیںآتے۔(المؤمنون: ۱۰۱)۔