ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 208
رَسُوْلُ اللّٰہ۔حالانکہ شبلی رحمہ اللہ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رسول نہیں فرمایا تھااور امت میں جس نے مسیح ہونا تھا اس کو بخاری میں نبی فرمایا ہے۔نور الدین ۱۸؍مارچ ۱۹۱۰ء زکوٰۃ کا روپیہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ زکوٰۃ کا روپیہ اشاعت اسلام یا تعمیر مدرسہ یا تعمیرمسجد میں خرچ کرنا جائز ہے یا کہ نہیں ؟ حضرت نے فرمایا کہ تعمیر مدرسہ ومسجد میں زکوٰۃ مناسب نہیں۔اشاعت اسلام میں جائز ہے۔(البدر جلد۹ نمبر۲۷ و۲۸ مورخہ ۲۸؍اپریل و ۵؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۵) حضرت امیرا لمومنین کی صحبت میں پندرہ منٹ (۲۵؍اپریل ۱۹۱۰ء) تَشَبُّہ بِالْقَوْمِ کے پانچ معانی فرمایا۔مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ (سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ)کے پانچ معنے ہیں۔(۱)یہ حکم جنگ کے موقعہ کا ہے کہ جو دشمنوں کی وردی پہنے ہوئے ہے اسے دشمن باور کرکے کوئی مسلمان قتل کر دے تو وہ قاتل مجرم نہیں خواہ وہ شخص مقتول مسلمان ہو کیونکہ میدان جنگ میں وردی سے امتیاز ہوتاہے۔(۲)ہر قوم میں کچھ امور تو وہ ہوتے ہیں جو مشترک فی الاقوام ہیں اور کچھ اس قوم کی خصوصیات۔اب ان خصوصیات کو جو اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا۔مثلاً جو شخص لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ زبان و دل سے کہے نماز پڑھے ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے۔جس شخص میں یہ باتیں ہوں ہم اسے مسلمان کہیں گے۔مسیحی مذہب کی خصوصیات سے نہ ہے۔مسیح کو ابن اللہ ماننا ، کفارہ جو یہ مانے گا وہ مسیحی کہلائے گا۔(۳)جب انسان کسی قوم کی ادنیٰ باتوں میںشریک ہوتا ہے تو چونکہ انسان میں ترقی کا مادہ ہے اس لئے اس ادنیٰ سے بڑھتے بڑھتے پھر اسی قوم کی خصوصیات بھی اختیار کرلیتا ہے اور پھر انہی میں