ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 202 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 202

اس میں جان پڑجاتی ہے اور گویا نئی زندگی ملتی ہے اور اگر ناکامی کی خبر آ جاوے تو زندہ ہی مر جاتا ہے اور بعض اوقات بہت سے کمزور دل آدمی ہلاک بھی ہو جاتے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عام زندگی اور موت تو ایک آسان امر ہے لیکن جہنمی زندگی اور موت دشوار ترین چیز ہے۔سعید آدمی ناکامی کے بعد کامیاب ہو کر اور بھی سعید ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان بڑھ جاتا ہے۔اس کو ایک مزہ آتا ہے جب وہ غور کرتا ہے کہ میرا خدا کیسا ہے؟ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْن قرآن مجید کی اصل غرض اور غایت تقویٰ کی تعلیم دینا ہے۔اتقا تین قسم کا ہوتاہے پہلی قسم ا تقا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔اس کو (البقرۃ:۴)کے الفاظ میں ادا کیا ہے۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے۔جیسا کہ (البقرۃ:۴)میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ نماز یں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یَقْرَؤُنَ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا یعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے۔سے لوازم الصلوٰۃ معراج ہے۔اور یہ وہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہو تا ہے… مکاشفات اور رؤیا صالحہ آتے ہیں۔لوگوں سے انقطاع ہو جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہو نے لگتا ہے یہاں تک کہ تبتّل تام ہو کر خدا سے کامل تعلق پیدا کر لیتا ہے۔اعلیٰ درجہ کے مومن اعلیٰ درجہ کے مومن مریم صفت ہوتے ہیں جن کے لئے قرآن مجید میں آیا ہے۔(التحریم:۱۳) ہر ایک مومن جو تقویٰ و عبادت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنے کئے ہیں کہ یہ آیت عام ہے اور اگر یہ معنے نہ کئے جاویں تو بہت سے مشکلات پیش آتے ہیں۔اور اس کے علاوہ اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے کہ اس امت میں ابن مریم پیدا ہو گا۔( الحکم جلد ۱۴نمبر۱۰ مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۳)