ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 199
والدین جب قطب ا لحق کے جانشین ہوئے تو ہفتہ کے اند ر اندر قریب دہلی سے دوری اختیار فرمائی تو کیا ان کے لئے اجو دھن کا جنگل مضرہولَا وَاللّٰہ۔(الحکم جلد۱۴ نمبر۷ مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۱۰ء صفحہ۲، ۳) الانذار اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو تاکہ تم پر رحم کیا جاوے حضرت خلیفۃ المسیح کا تاکیدی فرمان درس میں اور دوسرے وقتوں میں ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے قہری نشانات کس زور سے ظاہر ہو کر مخلوق کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے اور اپنے اعمال کو سنوارنے کے لئے بار بار بیدار کر رہے ہیں۔ایران، یونان، وسط ایشیاء ، اٹلی ، سسلی اور امریکہ کے پے در پے زلازل حیدر آباد اور پیرس کے تباہ کن سیلاب، متفرق مقامات کے طوفان اور جہازوں کی غرقابیاں کس قدر عبرت گاہوں کا نقشہ انسانوں کے سامنے پیش کر رہی ہیں غیرقومیں ان باتوں کو سمجھیں یا نہ سمجھیں پر مسلمانوں کی مقدس کتاب تو ان واقعات کو آیات اور نشانات کے نام سے پکارتی ہے۔یہ مت خیال کرو کہ یہ معمولی باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرعون کے متعلق فرمایا ہے(الاعراف:۱۳۴) پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور چچڑیاں اور مینڈک اور لہو۔یہ سب نشانات جدا جدا آئے۔پس انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب اس واسطے آتا ہے کہ لوگ تضرع اختیار کریں۔طاعون پچھلے سالوں میں کچھ کم تھی مگر اب پھر اس کا زور ہوتا جاتا ہے۔چاہیے کہ لوگ ان باتوں کو سمجھیں، تکبر اور شیخی سے باز آ جاویں، نیکی کی طرف قدم بڑھا ویں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کو بخشوائیں اور خدا کے مقدس بندوں کے حق میں بے باکی سے منہ نہ کھولیں۔یہ ایک نصیحت ہے جو سننے والوں کو سنائی جاتی ہے۔چاہیے کہ اخبار پڑھنے والے حتی الوسع آگے دوسروں کو پہنچا دیں۔والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔(البدر جلد۹ نمبر ۱۹ مورخہ ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۲)