ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 198

۔کیا واجب ہوا۔فرمایا اَلَّذِیْ اَثْـنَـیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا فَوَجَبَتْ لَہٗ الْجَنَّۃُ وَ اَمَّاالَّذِیْ اَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔اَنْتُمْ شُھَدَآئُ فِیْ الْاَرْضِ۱؎ جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور جس کی تم نے مذمت کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوئی۔اب جو میں قرآن کریم کو پڑھتا ہوں تو اس میں ارشاد ہے(البقرۃ:۱۴۴) تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حقیقت ہر زمانہ کے انبیاء میں طاری و ساری ہے اور ہمیشہ اس کے مطابق ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور اس معیار پر میں نے حضرت نظام الحق والدین سلطان الدنیا والعقبٰی کو دیکھا تو سات سو برس کے قریب قریب ہوتا ہے کہ ہزاروں ہزار اخیار آپ کے مدح میں رطب اللسان ہیں اگر یہ مشت خاک ان ابرار و اخیار کے ساتھ ہم آواز نہ ہو تو حسب الارشاد(النساء:۱۱۶)مجھ سے زیادہ کون بد قسمت ہو سکتا ہے۔پس میرا دلی یقین یہ ہے کہ وہ محبوب الٰہی حسب تزکیہ شہداء اللہ واقعی محبوب الٰہی تھے یہی میرا دلی اعتقاد ہے۔عام لوگوں کی اجنبیت انشاء اللہ میرے نزدیک جوئے نمی ارزد کا رنگ رکھتی ہے۔کاش آنانکہ عیب من گیرند روئے آن دلستاں بدیدندی اب دوسرے ارشاد اور اس کی اہمیت پر گزارش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے(المؤمن:۵۲) اور فرماتا ہے(المنافقون:۹) پس مولانا! اگر ہم فی الواقعہ جناب الٰہی کی نظر میں مومن ہیں تو ہم یقینا یقینا معزز و منصور ہیں ہمیں کفار کے جلسہ کا قطعاً جوش و رنج نہیں اور نہ ہم ان کے نظاروں کو اہم یقین کر سکتے ہیں۔جناب کو معلوم ہو گا حضرت فرید الحق ۱؎ ھٰذَا ْ اَثْـنَـیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا فَوَجَبَتْ لَہٗ الْجَنَّۃُ وَ ھٰذَا اَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَہُ النَّار اَنْتُمْ شُھَدَآئُ اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس علی المیت)