ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 197

رہے تھے کہ بچہ نے کلاہ لا کر رکھ دیا کہ اس کو لے دو۔متوجہ نہ ہوئے۔پھر توجہ دلائی تو ایک شخص کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ وقت ایسے کاموں کے لئے نہیں تم جانتے ہو کہ یہ وقت ان مریضوں کے لئے ہے اگر میں ذاتی کاموں میں اسے صرف کر دوں تو پھر ان کے لئے اور وقت کہاں سے نکالوں۔خریدو فروخت کے کام میں نہیں کر سکتا۔اس بے توجہی سے بچہ نے گورونی سی صورت بنائی مگر حضرت نے اس وقت ذرا بھی توجہ نہ کی اور پھر مریضوں ہی کی طرف متوجہ رہے۔یہ عملی نمونہ ہے وقت کی قدر و قیمت کا ،یہ فعلی سبق ہے ایثار نفس کا اور شفقت علی الخلق کا۔حضرت امیر المومنین کا مکتوب حسن نظامی کے نام گزشتہ سال ۲۷؍فروری ۱۹۰۹ء کو حسن نظامی دہلوی نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھا جس میں انہوں نے حضرت محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کوئی تحریر چاہی تھی اور گورو کل کے جلسہ کے متعلق لکھا تھا کہ کوئی آدمی وہاں جا کر اسے دیکھے۔اس کا جواب حضرت نے اس وقت جو دیا وہ خوش قسمتی سے مجھے بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا اور آج پورے ایک سال کے بعد میں اسے دوستوں کے لئے بطور تحفہ پیش کرتا ہوں اس سے حضرت کے ایمان باللہ اور توکل علی اللہ کا عجیب ثبوت ملتا ہے۔( ایڈیٹر ) مکرم معظم جناب مولانا مکرمت نامہ پہنچا۔اس پر عرض ہے کہ کتاب اللہ کے بعد صحیح بخاری کو میں اور ہماری جماعت اصح الکتب یقین کرتے ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ ایک بار سرور عالم فخر بنی آدم خاتم المرسلین سید الاولین والآخرین کے حضور ﷺ حضرات صحابہ کرام شرف اندوز تھے اور ایک جنازہ گزرا اور اس مطہر و مزکی جماعت نے اس کی تعریف کی عربی عبارت میں ہے۔اَ ثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ(السنن الکبرٰی للبیھقی جلد ۴ صفحہ ۵۷)۔پھر ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی مذمت ہوئی۔پھر ارشاد ہوا وَجَبَتْ۔وَجَبَتْ کے معنے ہیں کہ اس کے لئے واجب ہو چکی۔حضرات صحابہ کرام نے عرض کیا مَا وَجَبَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ