ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 196
اسے قبول کرے جو چاہے رد کرے اس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔ہم کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ دنیا سے ڈرتے ہیں۔جب یہ باتیں ہی ہمارے سامنے ہیچ ہیں تو پھر ہم کسی کی پرواہ کیا کریں۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔خدا کے فضل کا ذکر حضرت امیر المومنین کے واقعات زندگی عجیب قسم کے خوارق کا مجموعہ ہیںدوسرے لوگ جو بدظنی سے ہر ایک بات دیکھتے ہیں وہ ایسے امور کو اعتقادی نظر سے دیکھتے ہیں اور بے حقیقت کہتے ہیں مگر جن لوگوں نے ان واقعات کو دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کر سکتے ہیں۔فرمایا۔ایک مرتبہ ایک شخص کے چودہ روپیہ مجھے دینے تھے۔اس نے آ کر مطالبہ کیا اور میں نے گھر میں دریافت کیا تو جواب ملا موجود نہیں۔میرے پاس ایک قیمتی چادر تھی میں نے وہ کسی کو دی کہ بازار میں فروخت کر دو۔اس نے آ کر کہا کہ اس کی قیمت چودہ روپیہ ملتی ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک بصیرت اور مناسبت دی ہے میں نے سمجھ لیا کہ ہاں ٹھیک ہے دے دو حالانکہ وہ بہت قیمتی چیزتھی۔اس کے بعد میں نے دعا کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے کبھی ایسی ضرورت نہیں آنے دی کہ اس کا سامان ساتھ ہی نہ ہو گیا ہو۔میرے شاگرد جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح پر میری ضرورتوں کو رفع کرتا ہے بعض وقت سولہ روپیہ کی ضرورت آنے والی ہے اور مجھے علم نہیں مگر اس سے پہلے کسی نے آ کر ایک پونڈ اور ایک روپیہ دے دیاہے۔اسی طرح پر وہ میرے ساتھ معاملہ فرماتا ہے یہ اس کی نکتہ نوازی ہے۔روحانی امراض کے علاج کا نسخہ مجھے میرے روحانی امراض کے علاج کے لئے ایک نسخہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ میر ایقین ہے تجربہ ہے مشاہدہ ہے اگر انسان اپنے مذہبی فرض اور دنیوی فرض کو عمدگی سے ادا کر کے گو نہ سبکدوشی حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گز ہرگزہرگز ایسے انسان کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ شفقت علیٰ خلق اللہ کا نمونہ ایک عہدہ دار نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت میں مخلوق کی ہمدردی کا اتنا جوش ہے کہ شفقت علیٰ الاولاد بھی بعض وقت اس پر قربان کرتے ہیں۔اس نے اسی سلسلہ میں کہا کہ ایک دن آپ مریض کے لئے نسخہ لکھ