ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 194

۴۔نبی کے آنے سے پہلے متعلقہ اصلاح کی تحریک فرمایا کہ جس طرح بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اسی طرح جب کسی راستباز نبی کا نزول ہونا ہوتا ہے تو اس سے پہلے جس اصلاح کے لئے وہ آتا ہے اس کی نسبت کچھ نہ کچھ تحریک اس قوم میں پیدا ہوہی جاتی ہے۔مثلاً ہمارے نبی کریم ﷺ نے لَا اِلٰـہَ اِلَّااللّٰہ کی تبلیغ کے لئے مبعوث ہونا تھا تو امیہ بن صلت، زید بن عمر جیسے بت پرستی سے متنفر ہو گئے۔ہمارے امام ؑ نے وفات مسیح پر زور دینا تھا آپ ؑ سے پہلے سرسید اور آجکل کی تعلیم نے اس مسئلہ کو چھیڑ رکھا تھا۔صرف اتنا فرق تھا کہ اگر آپ نہ آتے تو لوگ اسلام کی تعلیم پر عیب لگاتے گو اس مسئلہ کو مان لیتے۔آپ آئے اور بڑے زور سے فرمایا کہ وفات مسیح قرآن مجید سے ثابت ہے (الاعراف:۵۸)۔۵۔جماعت احمدیہ کی خصوصیت فرمایا۔اس وقت روئے زمین پر کوئی اہل سنت والجماعت نہیں مگر احمدی۔جماعت تو وہی ہو گی جس کا اما م ہو۔کیا ہمارے مخالف مسلمان ایک صف میں کھڑے کئے جاویں تو ان کا کوئی امام ہے؟ ہرگز نہیں۔ہاں احمدی جماعت کا خصوصیت سے امام ہے۔پس اس وقت احمدیوں کے سوائے کوئی اہلسنت والجماعت میں سے نہیں۔۶۔قرآن مجید کے فوائد فرمایا کہ قرآن مجید کے مدبرین کے لئے عجیب عجیب فوائد ہیں۔ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ طاعون کے دنوں میں باہر ڈیرا لگا نے کا کیا حکم ہے۔میں نے کہا کہ باہر ڈیرہ لگا لے اور یہ خروج میں داخل نہیں کیونکہ (الاعراف:۵۸)سے ظاہر ہے کہ اس شہر کی اردگرد کی زمینیں شہر کے حکم میں ہیں۔ورنہ کوئی بتاوے کہ بارش صرف شہر کے کوٹھوں پر ہوتی ہے اور انہیں سے الثمرات نکلتے ہیں۔۷۔اسلام کی ایک خوبی فرمایا۔اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے کسی چیز کو مطلق بے فائدہ نہیں ٹھہرایا۔دیکھو (الاعراف:۵۹) میں بتادیا کہ خبث میں بھی کچھ نہ کچھ مادہ نبت ضرور ہے ورنہ خدا کا فعل عبث ٹھہرتا ہے۔دنیا کی کسی چیز کو کبھی لَیْسَتْ عَلٰی شَیْئٍ بالکل ناکارہ نہ کہو۔(بدر) (الحکم جلد۱۴ نمبر۶ مورخہ ۲۱؍ فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۳)