ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 168 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 168

مکتوبات خلیفۃ المسیح (ا)السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی عورت کا اپنے شوہر سے پہلی عورت کا طلاق شرط کرنا عام طور پر شرع اسلام میں ناپسند ہے خاص طور پر فطرتاً جب ایک عورت دوسری بی بی کو پسند نہ کر سکے تو اس عورت کو اختیار ہے خود طلاق لے لے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ خدا کے بندے ہو کے رسول کی اُمت ہو کر لوگ زنا، جھوٹ، شراب خوری، فریب اور دغا سے باز نہیں آتے۔احمدی کیونکر ان کو روک سکتا ہے۔میرے نزدیک تو ایسے معاہدات سرے سے برے ہیں احمدی کرے یا غیر احمدی کرے۔نام سے کیا بنتا ہے جب کام اچھے نہ ہوں۔والسلام نور الدین ۱۳؍اپریل ۱۹۰۹ء (۲) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وضو کی آیت کریمہ(المائدۃ:۷)پرعملدرآمد کرنا فرض الٰہیہ سے ہے اور حدیث شریف پر عمل درآمد کرنا اس سے کم پایہ پر سنت اور مستحب ہے۔حدیث کے حکم کے مطابق ابتداء وضو میں ہاتھ دھونا اور آیت کے رو سے پہلے منہ کا دھونا اور ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا اور پائوں کا ٹخنوں تک ملنا اور دھونا اور حدیث کے رو سے پائوں پر پانی تین بار ڈالنا ثابت ہے۔شیعہ لوگ بھی الفاظ قرآنی پر زیادتی کرتے ہیں جیسے کہ ابتدائے وضو میں ہاتھ دھوتے ہیں اور سر کے مسح کے واسطے پانی لیتے ہیں اور بعض وضو سے پہلے پائوں دھو لیتے ہیں حالانکہ یہ سب قرآن شریف کے الفاظ پر زیادتی ہے۔آپ ان سے پوچھیں کہ پہلے پہل ہاتھ آیت میں کہاں ہیں