ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 167

طرف سے نہیں بلکہ پنچائتی طور پر ہے تو یہی جائز ہے۔اگر ضرورت پڑے آپ غور فرماویں۔حضرت یوسفؑ حبس سجن نے بضرورت، بادشاہ کو خود منصف اپنے اس معاملہ کا فرمایا جس کے ماتحت بھیجنے والے تھے اور صاف فرمایا۔َّ (یوسف :۵۱)۔۳۔شرع محمدی نام ہے قرآنیu احکام، نبوی vفیصلہ،خلفائےw راشدین، صحابہxکے عملدر آمد بلکہ ائمہ دین مثلاً ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد، زفر، حسن وغیرہ کے فیصلہ ہا کا۔آپ غور کریں فتاویٰ عالمگیری، قاضی خان بلکہ ہدایہ کے مقدمات دیوانی و فوجداری اور کل قوانین مناسب وہاں یکے از ہزار بھی قرآن و حدیث کا ذکر نہیں آتا۔میونسپلٹی اور سیاست مدینہ کے قواعد کو چھانا جاوے تو غالباًسارا کا سارا عرف پر مبنی ہے اور فوجی قوانین پر تو خاص کتاب مسلمانوں کی میں نے نہیں دیکھی ممکن ہے کہ ہو مگر مجھے یقین ہے کہ اس میں قرآن و حدیث کا ذکر بطور تبرک ہو تو ہو ائمہ دین مثلاً ابو حنیفہ، شافعی، مالک، احمد حنبل، بخاری کا ذکر بھی انشاء اللہ تعالیٰ نہ ہو گا ان سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ان امور میں آزادی وقتی ضرورت عرف سے کام لیا گیا ہے۔(الحکم جلد ۱۳ نمبر ۳۸ مورخہ۲۱؍ دسمبر۱۹۰۹ ء صفحہ۲ تا۴)