ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 166

دلاورانِ علی مرتضیٰ اور بہادرانِ امیر معاویہ کے لئے فتویٰ ہو سکتا ہے۔۷۔قرآن کریم کے رو سے تعامل اہل اسلام جیسے مشیت احکام ہے اس کے تواتر سے ہم نے مشترکہ حصہ صوم وصلوٰۃ اور حج کو ضروری اور لابدی سمجھا ایسا ہی اس کے خلاف کو ہم بُرا یقین کرتے ہیں۔اب ان چند مختصر عرائض کے بعد گزارش ہے کہ غیر مسلم فرمانروائے مسلمان نہیں اور نہ قواعداسلام کا پابند ہے۔پس ا س کو اپنی رعایا کے لئے قوانین بنانے سے کون روک سکتا ہے۔۱۔ایسے فرمانروائے قانون بنا سکتے کیا بناتے ہیں۔یہ واقع و مشاہدہ اس کو کون باطل کر سکتا ہے۔پھر صحابہ کرام حبشہ کو ہجرت کر کے عیسائی بل مسیحی سلطنت کے ماتحت رہے۔کبھی نہ کہا کہ ہمارے لئے آپ کے قواعد کی پابندی ضروری نہیں۔وہ صحابہ کرام اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں تیرہ برس رہے۔قوانین شہر کے رو سے صدہا بُت مسجد مکہ میں تھے اور آپ وہاں وحدہ لاشریک کی عبادت باہمہ موجودگی اصنام فرمایا کرتے مگر خلاف ورزی کسی ایسے قانون کی نہ کی جو آپ کے بالکل خلاف تھا۔آخر ان کے قوانین سے جب تنگ آگئے تو اس شہر کو چھوڑ دیا بلکہ حبشہ کے مہاجروں سے ایک نے شراب خوری کی اور آخر مسیحی ہو گیا مگر ان مسلمانوں نے اس کو اپنے قوانین کے نیچے نہ کیا۔اصل سرّ ہجرت کا یہی ہے کہ حبشہ کی ہجرت کو ہم مذہبی طور پر مسیحی سلاطین کی ماتحتی کا ایما جانتے ہیں اور کس طرح اس سلطنت کے ماتحت اس میں مسلمانوں کو رہنا چاہیے اس کے لئے سبق اعتقاد کرتے ہیں کہ ہاں اگر مسلمان ایسے تنگ کئے جاویں جیسے کہ مکہ میں کئے گئے تو ان کے لئے یہاں زیادہ امن کی جگہ یقین کر کے ہجرت کرنا ہوگا۔یہی طریق انبیاء کا ہے جن کی اقتداء کا پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد ہوا (الأَنعام:۹۱)۔موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے حضور درخواست دی (طٰہٰ :۴۸)یہی آخری علاج تکالیف کا ہے نہ عذر بلکہ اگر ہم غور سے دیکھیں تو مکہ معظمہ کی حکومت قریباًسکھوں کی سی حکومت تھی اور ابتداء ً مدینہ طیّبہ کی حکومت جمہوری تھی۔۲۔غیر مسلم جج جب فرمانروا کی طرف سے ہے تو حقیقۃً فرمانروا ہی جج ہے اور اگر فرمانروا کی