ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 163
۲۔قرآن مجید مشاہدہ و تجارب صحیحہ و عقل صریح غیرمشوب بوہم و نقل و صحیح اور فطرت سلیمہ کے خلاف ہرگز نہیں فرماتا۔(ثبوت(حٰمٓ السجدۃ :۴۳) اور بار بار (یٰسٓ :۶۹) اور باربار(القصص :۷۳))۔۳۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ ایمان بڑھتا ہے اور بتدریج ترقی کرتا ہے۔ثبوت(الرّوم :۳۱) (الأَنْفال :۳)۔۴۔قرآن کریم مذاہب مختلفہ کو باہمہ اختلاف تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ قائم رکھنا چاہتا ہے ثبوت (۱)(البقرۃ :۲۵۷)۔(۲)(یونس :۱۰۰)۔(۳) (الأَنعام :۳۶) ِ(الحج :۴۱)(المآئدۃ :۴۸)۔ (البقرۃ :۱۱۴)یہاں قابل غور ہے۔۵۔قرآن فساد فی الارض کو بہت ناپسند کرتا ہے۔(البقرۃ :۲۰۶)۔ثبوت (البقرۃ :۶۱)(الأَعراف :۵۷) (البقرۃ :۱۹۱) (الأَنْفال :۴۰) جیسا کسی کا ظاہر ہو ایسا ہی باطن ہو دیندار پورا دیندار ہو سکے۔ان قوانین کے لئے بطور اصل الاصول مختصر سامان قرآن کریم میں ہے۔تفصیل کو اطاعت اولی الامر کے نیچے رکھا ہوا ہے اور اسی پر صحابہ سے لے کر آج تک عمل در آمد اسلامیوں کا ہے۔ہر ایک