ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 15
محتاجوں کو دے دیا کرتا ہوں اور خدا سے ان کے واسطے التجا اور دعا کیا کرتا ہوں کہ تو ان کی حالت پر رحم فرما اور یہ صدقہ ان کی طرف سے تو خود قبول فرما کیونکہ تو بڑا ہی رحیم کریم ہے۔‘‘ (ماخوذ از مضمون ’’ایک مٹھی آٹا‘‘الحکم جلد۱۲ نمبر۴۹،۵۰مورخہ ۲۶۔۳۰؍اگست۱۹۰۸ء صفحہ ۵) مسیح موعود ؑ کے عقائد و دعاوی کی حلفاً تصدیق میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو نجات کا مدار ماننا میرا ایمان ہے۔(تشحیذ الاذہان جلد ۳ نمبر ۸ ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۳۸ حاشیہ) آپ کے انتخاب خلافت میں سِرّ علامہ نور الدین کو اللہ نے اپنے مسیح کی خلافت کے لئے چن لیا اس میں سرّ کیا ہے وہی جو ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں مولوی صاحب نے خود بیان کیا تھاکہ خدا تعالیٰ نے (النور: ۵۶) فرمایا ہے۔عمل صالح کئی قسم ہے۔بعض کا تعلق خود اس کی ذات سے ہے اس کا نفع و نقصان بھی اسی تک محدود ہے۔بعض کا تعلق اپنی اہلِ بیت سے ہے سو اس کا اثر بھی چند اشخاص تک محدود رہتا ہے۔بعض کا تعلق اپنی قوم سے ہے اور بعض کا غیر اقوام سے بھی۔اور تو مجھ میں کچھ نہیں مگر یہ ضرور تھا کہ میں نے بلا کسی بخل کے تمام جہان کے لوگوں سے ہمدردی کی ہے اور ان کی نفع رسانی اور بہتری و بہبودی میں کبھی کسی قسم کاکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔سو اس کا اجر مجھے یہ ملا۔میں نے قرآن مجید کی اشاعت کے لئے کئی لوگوں کو بڑے بڑے خرچ دے کر پڑھایا مگروہ پڑھ کر میرے مطلب کے ثابت نہ ہوئے۔آخر خدا نے میری محنت کو ضائع نہ کیا اور کئی انگریزی و عربی و سنسکرت و عبرانی دانوں کو میرے تابع کردیا۔اکیلے خانہ کعبہ کا طواف مولوی نور الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے خانہ کعبہ کا طواف ایک دفعہ ایسے وقت میں کیا جبکہ کوئی اور طواف نہیں کررہا تھا۔