ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 143
روزہ کی فرضیت کی عمر روزہ بالغ عقلمند پر ہے۔یہ اجماع اسلام کا ہے مگر صحابہ کرام دس گیارہ برس کے بچوں کو عادت ڈالنے کے لئے روزے رکھواتے تھے۔لڑکوں اور لڑکیوں کا باہم کھیلنا لڑکوں اور لڑکیوں کا باہم کھیلنا معروف کے خلاف ہے جب سن تمیز تک پہنچ جاویں۔ہمارے ملک میں سات برس کے بعد مناسب نہیں۔(اٰل عمران:۱۱۱) پر غور کرو۔عمدہ شعر عمدہ شعر تو ہر زمانہ میں جائز ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ پاک نظم، اہل اللہ کی سادہ نظمیں جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ، قرآن کریم اور اسلام کی عظمت ہو بہت ہی مفید ہیں۔اور گانا ایک تو کسب ہے اور ایک موزوں کلام کا عمدہ آواز سے بدوں تلمذ کلانتون کے ادا کرنا ہے؟ یہ دوسری قسم بھی ممنوع نہیں وہ بدر او ربعاث کی لڑائی کے متعلق گیت تھے جو لڑکیوں نے گائے۔مختلف عمر کی تھیں۔تعیین عمر کا علم مجھے نہیں اور نہ میں نے کسی کتاب میں دیکھا ہے۔مرہون اشیاء کااستعمال معمولی شکست و ریخت جو عرفاً ہو وہ مرتہن کرے تو اس کو ( مرتہن کو ) مکان مرہون میں رہنا جائز ہے۔یہ میری فہم کی بات ہے میں نے بعض حدیثوں سے ایسا ہی سمجھا ہے گو علماء کااس میں اختلاف ہے۔راہن مکان میں خود رہے اور کرایہ مرتہن کو دے۔یہ تو صاف سود ہے جس میں ذر ہ مجھے شبہ نہیں کہ یہ حرام ہے۔پہلی صورت اس حدیث سے جائز معلوم ہوتی ہے۔اَلظَّھْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہٖ ۱؎۔کیا معنے؟ کسی کے پاس سواری کا جانور رہن ہو تو اسے گھاس کھلادے اور سواری بھی کرلے اور اگر دودھ والا جانور رہن ہو تو اس کو گھاس کھلادیں اور دودھ لے لیں۔یہ میری سمجھ ہے اس کے خلاف مسند عبدالرزاق کی حدیث کوئی چیز نہیں۔والسلام نور الدین ( البدر جلد ۸نمبر۵۰ مورخہ ۷؍اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) ۱؎ اَلظَّھْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ اِذَاکَانَ مَرْھُوْنًا وَ یُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ اِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا۔وَ عَلَی الَّذِیْ یَشْرَبُ وَ یَرْکَبُ نَفَقَتُہٗ(مسند احمد بن حنبل۔مسند المکثرین من الصحابۃ۔مسند ابی ہریرہ ؓ حدیث ۱۰۱۱۰)