ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 142
کی تعریف میں آیا ہے(التکویر:۲۰ تا ۲۲)یہ صرف اس کے جامع ہونے کا بیان ہے۔ اور کا لفظ قابل غور ہے بادشاہ کہیں عظیم الشان کام میں اکیلا نہیں جاتا۔ (الجن:۹)والی آیت کریمہ اس کی حفاظت کو ظاہر فرماتی ہے اس مقام پر جب انشاء اللہ پہنچوں گا تو اس کا جدید علم بالخصوص نوٹ کے ذریعہ انشاء اللہ آپ کو پہنچے گا۔نور الدین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میت کو ثواب صوم ، صلوٰۃ، قرأت قرآن اور ذکر کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔ا مام احمد اور جمہور سلف او ربعض اصحاب امام ابو حنیفہ کا یہی فتویٰ ہے۔مجتہدین، یحي ٰ بھی کہتے ہیں کہ امام احمد سے کسی نے پوچھا صلوٰۃ و صدقہ وغیرہ کا ثواب نصف باپ کو اور نصف ماں کو پہنچائوں؟ تو کیا حکم فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اسی طرح پہنچایا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحصہ رسدی ثواب پہنچتا ہے صدقہ دینے میں صدقہ دینے والے کو ثواب دینے کا پہنچتا ہے۔رہا جو ثواب کہ جو ہبہ کیا ہے اس کا حصہ دار بھی ہے یا نہیں اس کے متعلق مجھے کوئی روایت یا قول ائمہ کا اس وقت یاد نہیں۔امامت نماز میں جو لوگ کوئی لفظ بُرایا بھلا نہیں نکالتے مجھے ان کے حال پر تعجب آتا ہے کیونکہ مرزا صاحب نے قریباً چالیس برس دعویٰ کیا اور پر زور لفظوں میں شائع کیا کہ مجھے مکالمات الٰہیہ کا شرف حاصل ہے۔پھر اگر وہ سراسر افتراء تھا تو مرزا کے برابر دنیا میں کوئی ظالم نہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(العنکبوت:۶۹)۔اور اگر وہ راستباز اور صادق تھے تو جن کو خبر پہنچی اور اس کے منکر رہے ان کے برابر کون ظالم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(العنکبوت:۶۹)۔مومن کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ تنہا رہے۔دعا، نیک نمونہ، بامروت انسان پھر با خدا انسان بنے تو اس کے ساتھ ضرور لوگ ملیں گے۔پھر وہ اس جماعت سے کام لے اسی واسطے جماعت وجمعہ بعد کو فرض یا واجب ہوئیں۔اس وقت اسلام پر بہت مشکل وقت ہے ہاں جس کو تبلیغ نہیں پہنچی و ہ معذور ہے۔