ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 138 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 138

سچ بتانا۔پس نیا دین نہیں رکھتے۔ہم لوگ نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین خاتم الرسل یقین کرتے ہیں کسی احمدی کو تامل نہیں ہمارے لاکھوں مرید اس بات پر مستحکم ہیں وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ہم لوگ لڑائی سے سخت متنفر ہیں۔آپ بھیرہ میں دیکھیں مسجد میں فساد ہونے لگا تو ہم نے اپنے جدی مکان کو مسجد بنا دیا اور لڑائی سے روک دیا…… ان دنوں میں بھی مجھے لوگ اللہ رسول کا مخالف سمجھتے تھے مگر بحمد اللہ تھے غلطی پر۔میاں غلام محی الدین صاحب کپور اور متولی صاحب خصوصیت سے نمبردار تھے۔دونوں گھروں میں وہ نظارہ نظر آتا ہے جو ہم سے بہرحال آگے ہے۔یہ ہیں سچائی کے نشان وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔جس( آیہ) کریمہ پر آپ نے توجہ دلائی ہے۔اس پر میرا، مرزا کا اور مرزا کی جماعت کا کامل ایمان ہے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔وَ مَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ۔بلکہ میں خاکسار تو رسول اللہ ﷺ پر مال وجان وغیرہ کو فدا کرنے والا ہوں۔میں تو محمد رسولؐ اللہ کو خاتم لانبیاء خاتم الرسل کے علاوہ خاتم کمالات انسانی بھی یقین کرتا ہوں۔بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم ہٰذَا عَلَیْہِ اِعْتِقَادِیْ وَ عَلَیْہِ اُرِیْدُ وَاَرْ جُوْ اَنْ اَمُوْتَ رَبِّ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَ اَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔آمین مکرم حکیم صاحب ! بتائیے قرآن شریف کے ہم مخالف ہیں یا موافق ہیں۔ہاں اب ایک ا ور بات سنئے آپ حافظ ہیں قرآن کریم میں خاتم تاء کی زبر سے ہے یا تاء کی زیر سے اور دونوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے یا نہیں۔قابل غور ہے اور ضرور لِلّٰہ غور کا مقام ہے۔میں نے تو خاتم الرسل بھی آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم یقین کیا ہے مگر ( ختم رسالت ) ایسی آیت کریمہ مشکل سے آپ کو ملے گی۔بلکہ غالباً نہ ملے تو تعجب نہیں نیز عرض ہے النبیینسے آپ بہر حال کل انبیاء ہی مراد لیں گے اور اگر آپ کل نہ لیں تو بعض کے لینے سے آپ کا مطلب خراب ہو گا۔لا کن اگر کل نبی مراد لئے تو آپ کو ایک مشکل کا سامنا ہو گا۔کیونکہ یقتلون النبیین میں بھی وہی النبیینکا لفظ ہے تو اسی سے ثابت ہو گا کہ یہود نے کل