ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 134
پادری لارڈ بشپ کے ماتحت ہیں ایک پادری دوسرے کے علاقہ میں وعظ تک نہیں کرسکتا۔ادھر ہندو علاقہ دیکھو وہ خواہ کس قدر آزادی آزادی پکاریں مگر تلک بینرجی کے خلاف نہیں کرتے حالانکہ ہندو کوئی مذہب نہیں پھر بھی اتنا اتفاق ہے۔یہ جو میں نے کہا ہندو کوئی مذہب نہیں یہ صحیح ہے اب تک کوئی جامع مانع تعریف اس کی مجھے کسی نے نہیں سنائی۔ایک دفعہ مجھے ایک عظیم الشان شخص نے کہا کہ ہندو وہ ہے جو تناسخ کا قائل ہو۔میں نے کہاغلط۔آغا خانی فرقہ تناسخ کاقائل اور پھر مسلمان کہلاتا ہے اور برہمو سماج تناسخ کا سخت منکر پھر بھی ہندو۔جب کوئی نظام قومی بغیر وحدت کے چل نہیں سکتا تو ضرورت ہے مسلمانوں میں بھی وحدت کی۔چنانچہ ان کو ارشاد باری تعالیٰ ہے ( اٰل عمران : ۱۰۴)۔دیکھئے کس قدر اطناب پھر ایجاز فرمایا۔پھر امرو نہی کو اکٹھا کردیا مگر مسلمانوں نے اس حکم کی کچھ پروا نہ کی۔مسلمانوں میں وحدت کے مفقود ہونے کی وجوہ آ پس میں لڑتے جھگڑتے ہیں ان میں حددرجہ تفرقہ ہے یہ کیوں؟ اس کی وجہ قرآن نے ہمیں بتائیہے (المائدۃ : ۱۵) مسلمانوں میں تفرقہ اسی لئے ہے کہ انہوں نے قرآن شریف کی تعلیم کو چھوڑدیا۔ان کا کوئی لیڈر نہیں جس کے ماتحت وہ چلیں۔وحدت کے لئے امام کی ضرورت کیا یہ وحدت پیدا ہوسکتی ہے جب تک وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے نہ ہوں گے۔اس ملک میں چشتیوں کا بہت زور رہا ہے مگر کب تک؟ جب تک نظام الدین، معین الدین، قطب الدین، بختیار کاکی اکیلے بادشاہ تھے کوئی ایک کے مقابلہ میں دوسرا نہ تھا۔جب بہت سے خلیفے ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو اس خاندان کو زوال آیا۔لکھا ہے کہ قطب الدین جب حالت نزع میں تھے تو ان کے دو خلیفے پاس بیٹھ گئے ایک سرہانے ایک پائنتی۔مطلب یہ کہ جاتی دفعہ ہمیں جانشین کر جائیں لیکن آپ نے ہوش آتے ہی کہا۔فریدالدین آیا۔عرض کیا گیانہیں۔فرمایا ہمارا مصلّٰی، ٹوپی وغیرہ وغیرہ اسے دیں اور سب اس کی بیعت کریں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔فریدالدین دہلی آئے یہاں امیری کارخانہ تھا۔ایک جاٹ نے کہا فریدالدین اب تو تم