ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 120
ہوگیا۔گھر وں میں تو بالکل ہی سلام علیکم نہیں کہتے۔حتی کہ میاں بی بی کو اور بی بی میاں کو نہیں کہتی حالانکہ سورہ نور میں صریحاً لکھا ہے۔(النور:۶۲)۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اکثر گھر دکھ اور مصیبت کے گھر بن گئے ہیں۔تشخیص مرض ایک مولوی صاحب نے جو اچھے طبیب بھی ہیں عرض کیا کہ مجھے ضعف مثانہ ہے بول بار بار آتا ہے مگر قلیل مقدار میں۔فرمایا کہ یہ ضعف ہے یا مثانہ کی ذکاو ت کہ وہ ایک قطرہ بول کو بھی محسوس کرتا ہے آپ مقوی دوائیں استعمال کرتے ہوں گے جس سے وہ اور بھی ذکی ہو تا ہو گا اور یہ مرض بڑھتا ہو گا۔تشخیص صحیح نہ ہو تو مرض کا علاج کیا ہو؟ایسی دوائیں استعمال کیجئے کہ مثانہ میں بلادت پیدا ہو۔کتاب سے مصنف کے حالات کا علم فرمایا۔نظم سے تو نہیں مگر میں کسی مصنف کی نثر کا ایک ورق پڑھ کر اس کے حالات معلوم کر جاتا ہوں کہ اس کا مذہب کیا ہے؟ بیوی، بچوں، دوستوں، دشمنوں سے اس کے تعلقات کیا ہیں ؟ایک مصنف سے میں نے کہا تم سنّی ہو۔اُس نے کہا آج تک نہ شیعہ نے مجھے سنّی سمجھا اور نہ سنّیوں نے۔آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ یہ بھی ایک علم ہے۔خاص مسئلہ کے ساتھ نصیحت کی عام بات فرمایا۔قرآ ن کریم میں خاص مسئلہ کے ساتھ ایک عام بات نصیحت کی بھی ضرور ہوتی ہے۔یہ اس لئے کہ جسے اس خاص مسئلہ کی ضرورت نہیں وہ بھی قرآن سننے میں دلچسپی لے سکے۔مثلاً طلاق کے مسئلہ میں(الطلاق:۳،۴)۔فقہاء کے باب کی طرح نہیں کہ جو ایک ہی مسئلہ چلا جائے اور کسی مسافر یا غیر مسلم وغیرہ کو کسی قسم کی نصیحت حاصل نہ ہو۔آنحضرتؐ کی اطاعت قرآن (الطلاق:۲) پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ؐ جب اپنی ازواج پر ناراض ہوئے تو خود گھر سے نکل گئے مگر ان کو نہیں نکالا۔قرآن کریم کی اس درجہ کی اطاعت دیکھ کر نبی کریم ؐ پر درود پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔