ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 119
تو بتائے وہی لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ بھی ساتھ رہے گی اور(النور:۵۶) میں سے فائدہ ہی کیا ہوا پھر آپ کو اور بات یاددلاتا ہوں۔موسیٰ علیہ السلام بعد زمانہ ابراہیم صاف اقرار کرتے ہیں(القصص:۱۷) تو وہ بھی ظالمین سے ہوئے تو وہ رسول کیسے بن گئے جب کہ ظالم خلافت کا بھی مستحق نہیں۔تشیع اور قرآن ،تشیع و عقل ہرگز جمع نہیں ہو سکتی۔نور اللہ جیسا قاضی ہو یا مصنف گوہر مراد۔ہم نے بہت بہت غور کیا ہے آپ کے سوالات پر بقدر فرصت و وقت توجہ کی ہے اس پر اگر آپ تو جہ کریں گے تو آپ کو وہ بات بھی لکھوں گا جس سے مجھے ثابت ہوا کہ آپ کو ہم سے کوئی تعلق نہیں۔اور قادیان سے الگ ہو کر آپ کوئی مشہور و متمول و آسودہ حال بھی نہیں ہوئے اور ہم سے قطع خط و کتابت سے آپ کے دین و دنیا میں کوئی مفید اور بیّن تفاوت نہیں ہوا۔نور الدین ۲؍جولائی ۱۹۰۹ء (البدرجلد ۸ نمبر۳۸ مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) کلام امیر ۶؍جولائی ۱۹۰۹ء السلام علیکم کا رواج امیر المومنین نے فرمایا۔آٹھویں صدی ہجری میں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ہند میں آیا تو مسلمانوں میں السلام علیکم کا رواج نہیں تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ اب بالکل تباہ ہو جائیں گے کیونکہ ان میں سلامتی کی دعا نہیں رہی۔ہند میں یہ رواج بہت ہی کم ہے۔رامپور کی طرف میں نے دیکھا ہے یوں ہوتا ہے کہ ایک کہتا ہے خان صاحب دوسرا کہتا ہے میاں۔بس سلام