ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 115

مضامین اور علوم پر ہو سکتا ہے۔کیا علوم جدیدہ اُنہیں معنوں کے ذیل میں آ سکتے ہیں ؟اگر آسکتے ہیں تو کیا مسلمانان ہند کو اس فرض کی تعمیل کے لئے بنظر حالات موجودہ انگریزی پڑھنا فرض ہے۔اگر چہ علمائے اکابر نے مسلمانان ہند کے لئے انگریزی نہایت ضروری مصلحت قرار دی ہے۔لیکن کیا یہ اعتقاد رکھنا صحیح ہو سکتا ہے کہ علوم جدید ہ مسلمانوں کے لئے ویسے ہی ضرور ی ہیں جیسے کہ علم الادیان۔میرے خیال میں پرانے فیشن کے بزرگان دین اور نئے فیشن کے سترگان قوم کی باہمی منافرت و بیگانگی کی ایک بڑی وجہ انگریزی تعلیم کا مسئلہ بھی ہے اس لئے توقع کرتا ہوں کہ اس مسئلہ پر مذہبی طور پر بخوبی روشنی ڈالی جائے۔جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علم فرض سب سے مقدم۔علم ایمان باللہ اور اس کے صفات اور اس کے افعال پر کہ وہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ ہے۔پھر علم ایمان بالملائکہ و الکتب و الرسل و علم القدر و علم المعاد و حشر و نشر و جنت و نار مگر یہ علم بالاجمال کافی ہے۔پھر علم ادائے نماز پھر اگر مالدار ہو تو علم زکوٰۃ پھر رمضان سے پہلے علم روزہ پھر استطاعت کے بعد علم حج اور علم اخلاق فاضلہ اور علم رذائل مثلاً یہ کہ عفت عمدہ چیز ہے اور زنا برا ہے۔علم ابدان میں طب اور مسائل سیاست و تمدن و علم طبیعات سب داخل ہیں جو آجکل انگریزی علوم اس وقت موجود ہیں مسلمانوں کے لئے اس کی بھی ضرورت ہے اور بہت ضرورت ہے مگر سترگانِ قوم ( نیو فیشن) نے اس کو علم الایمان سے بھی مقدم کر رکھا ہے اور اولڈ فیشن دونوں سے گئے گزرے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اور اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ والی حدیث صحیح نہیں۔نورالدین ۱۰ ؍ جون ۱۹۰۹ء (الحکم جلد۱۳ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۸؍جون ۱۹۰۹ء صفحہ ۳،۴)