ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 114

مکتوب الامام (منقول از بیاض اکبر نجیب آبادی) استفتاء کیا فرماتے ہیں علماء دین اسلام مسائل ذیل کے باب میں ؟بَیَّنُوْا وَ تُوْجِرُوْا۔راقم خاکسار دوست محمدحجانہ (بلوچ) (۱)جو علم کہ بحکم طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَۃٍ (تفسیر البغوی سورۃ التوبۃ آیت ۱۲۲) ہر مسلمان ذکور و اناث پر فرض کیا گیا ہے اس کی کیا تعریف ہے؟ جہاں تک میں جانتا ہوں پیغمبر خدا صلعم کی ذیل کی حدیث سے اس کی کسی قدر تصریح ہوتی ہے۔اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْاَ دْیَانِ وَ عِلْمُ الْاَبْدَانِ (کشف الغطاء حرف العینالمھملۃ۔۱۷۶۵)تو کیا اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنادرست ہو سکتا ہے کہ بحالیکہ مطلق علم فرض کیا گیا ہے تو دونوں علوم ابدان و ادیان کا حاصل کرنا بغیر کسی کمی بیشی کے یکساں فرض ٹھہرا۔اور یہ کہ ان دونوں علوم میں سے کسی ایک کی تحصیل کر لینے سے ادائے فرض کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔اور علم اور اہل علم کی بے شمار فضیلتیں جو احیاء العلوم وغیرہ کتب معتبرہ میں منقو ل ہیں ان فضیلتوں کا کماحقہ مستحق وہی ہو سکتا ہے جو علم کی دونوں قسموں کو حاصل کرے علم الابدان کی تعریف کیا ہے؟ شاہ عبدالعزیز صاحب شرح تفسیر عزیزی میں ایک مقام پر علم الابدان کی جو تعریف کہ ذیل کے لفظوں سے فرماتے ہیں۔واجب التسلیم ہے یا نہ ؟ ’’علم الابدان عبارتے است از قواعد یکہ برائی حفظ ہیئت اجتماعیہ بکار آید و حفظ ممالک و نظم امور دنیوی و آبادی بلاد و رفاہ رعایا بدان میسرمی شود‘‘ بعض مولویوں سے علم الابدان کے معنی علم طب سنے جاتے ہیں۔اگر شاہ صاحب کی مذکورہ بالا تفسیر واجب التسلیم سمجھی جائے تو علم الابدان کا اطلاق بموجب اس کے معنوں کے کون کون سے