ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 107
ایسے بڑے ضروری اور ثواب کے کام کے واسطے بہت چندہ ہو گا۔مگر جو رقم ہوئی اس سے ظاہر ہے کہ جماعت کے لوگ اس کام کو ضروری خیال نہیں کرتے۔اب یہ معاملہ خاص طور سے آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے تا آپ جماعت کو اس کی ضرورت کی طرف ایک اشتہار میں توجہ دلوا دیں اور ہر شہر جہاں انجمن قائم ہے چندہ برابر وصول ہو۔وصیت کی مد کا روپیہ وغیرہ خاص تبلیغ و اشاعت اسلام میں خرچ ہونا چاہیے اگر کافی سرمایہ ہوجاوے تو علاوہ ہزارہا کاپی ٹریکٹ کے دو چار آدمی یہاں سے امریکہ وغیرہ جاویں جو ان ٹریکٹوں کو تقسیم کریں اور زبانی تبلیغ بھی کریں کیونکہ ناخواندہ لوگ ہر ملک میں کثرت سے ہوتے ہیں ان کو زبانی سمجھانا پڑے گا۔مرحوم مرزا صاحب نے اپنی تقریر میں جو الحکم مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۲ء کے صفحہ ۳ میں شائع ہوئی ہے فرمایا تھا کہ ہمیں تو اشاعت اور تبلیغ کا اس قدر جوش اللہ نے دیا ہے کہ خواہ ہماری ساری جائیداد بھی بک جاوے مگر اشاعت عمدہ طور پر ہو جاوے۔فقط جواب از امیر المؤمنین اس کے جواب میں مولانا حضرت امیر المومنین نے یہ مضمون رقم فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔(اٰل عمران:۱۰۵)۔پس داعی الی الخیر لوگوں کی ضرورت ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے جہاں ابتدا ہی سے صدیق کو اس کام میں لگایا رکھا اور حضرت عثمان و طلحہ و زبیر و بلال جیسے عمائدان کی تحریکوں کے پاک ثمرات تھے۔وہاں یہ تمام حضرات صوفیہ مثلاً حضر ت گنج بخش، حضرت ولی الہند شاہ اجمیر معین الحق والدین اور آپ کے جانشین۔سہر وردیوں میں شیخ شہاب الدین شیخ الشیوخ اور حضرت بہاء الحق والدین زکریا ملتانی اور حضرت شیخ باقی اللہ دہلوی اور آپ کے خلفاء حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی سرہندی اور حضرت السید الجیلانی جیسے روحانی بادشاہ قادریوں کے اور آپ کے بزرگ خلفاء اور حضرت شاہ ولی اللہ کے خلفاء جیسے حضرت سید بریلوی اور ان کے خلفاء۔یہ سب داعیان الی الخیر اس ہندوستان میں