ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 102
تعصب کا بھرا ہوا سوال کرے۔سوال کے متعلق مجھے جو تعجب ہوا وہ بے جا نہیں تعجب کے اسباب ہیں۔ایک۔دائیں سے بائیں کو لکھنا مسلمانوں کا ایجاد ہی نہیں مسلمانوں سے پہلے عبری زبان اور توریت دائیں سے بائیںکو لکھی جاتی ہے۔دوم۔کاٹوی بھی دائیں سے بائیں کو لکھی جاتی ہے۔سوم۔فطرتاً اگر دیکھا جاوے تو دھکا دیتے وقت ہاتھ کو آگے کیا جاتا ہے نہ کہ پیچھے ہٹایا جاتا ہے اگر ہندی طرز قدرتی ہوتا تو بائیں ہاتھ سے شروع ہوتا۔خاکسار اس وقت جس عہدے پر ہے وہ گدابادشاہ است کا معاملہ ہے۔اس سے آپ میری حضوری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔۲۔بحضور مکرم حضرت نواب صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے حکم سے خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صاحب سوداگر امرتسر نے مجھے آپ کی تصنیف کے تمام رسائل نصف قیمت پر جیسے وہ لکھتے ہیں بھیج دئیے ہیں۔میں نے ان کو پڑھا ہے اور بہت ہی غنیمت یقین کیا ہے اور بہت کا لفظ اس لئے کہ ایک امیر کی قلم سے ان کا نکلنا ملک کی خوش قسمتی کا نشان ہے۔والحمد للہ ربّ العالمین۔ان رسائل میں جناب نے بہی خواہانِ قوم میں جن لوگوں کا نام لیا ہے ان کی فہرست حضور نے لیکچر ششم ربیع الثانی ۱۳۱۴ ھ میں کی ہے فضلائے فیض رسان زمانہ حال کا عنوان دیا ہے اسے دیکھ کر میرے دل پر عجب اثر ہوا کہ ان لوگوں نے مخالفان اسلام کے سامنے کیا کام کیا۔پھر خدام والا مقام نے گلدستہ منافع میں صفحہ ۴۹ علماء اسلام کے عنوان سے جو کچھ ارقام فرمایا ہے اس کا فقرہ مرقومہ صفحہ ۶۰ پیرا دو ہمار ے علما ء و پیر زادہ اور ہمارے رئوسا بتا ویں۔آہ درد دل سے آپ نے ملامت کی ہے مگر بے ادبی معاف ! علماء نے جو کام کیا ہے اسے یا تو جناب کو ملازمان نے اطلاع نہیں دی کہ مولوی رحمت۱ اللہ ، مولوی آل ۲حسن کی اظہار حق۔اعجاز عیسوی۔استفسار پھر پیغام محمدی۔دفع التلبیسات۔مولوی محمد علی کانپوری کی اور تنزیہ القرآن سہسوانی کی عیسائیوں کے مقابل اور آخر اس خاکسار نورالدین