ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 101

سے کم ہیں۔مرزا صاحب نے پینتیس برس سے زیادہ یہ کہا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کی باتیں ہوتی ہیں اور ان باتوں میں یہ باتیں بھی ہیں کہ تو مسیح ، عیسیٰ ابن مریم ، مہدی ،امام، مجدد ہے۔ان باتوں میں اگر میرزا نے افترا کیا ہے تو اس سے زیادہ کوئی برا نہ تھا اور اس کی جماعت سے زیادہ کوئی برا نہیں۔یہ کہنا کہ اُن کو غلطی لگی پینتیس برس ہر روز دعویٰ کرنا اور اس کو شائع کرنا اور ہزاروں ہزار کو اس میں معتقد بنانا بہت بڑا کام تھا۔پھر اگر افترا ہے تو بہت ہی بڑا ظلم کیا۔اور وہ اچھے بزرگ ولی تھے تو اُنہوں نے ایسا گندہ کام نہیں کیا بلکہ جو کیا سو راستبازی سے کیا۔تو پھر بڑا ظالم وہ ہے جس کی نسبت ارشاد ہے۔(العنکبوت:۶۹) یا وہ بڑا ظالم ہے جس نے راستباز کو مانا۔یہ مسیح کا معاملہ میری سمجھ سے باہر ہے جو آپ کے دوست فرماتے ہیں۔نور الدین ۱۸؍اپریل ۱۹۰۹ء (الحکم جلد ۱۳نمبر ۱۶مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۹ء صفحہ ۸) عقل اور مذہب یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ عقل و نقل باہم متخالف ہوں تو کس کو مقدم کریں۔اگر کہو عقل تو پھر حکماء کے مذہب کی فتح ہے اور اگر کہو کہ نقل تو پھر نقل کے ذمہ دار ہم اس وقت ہو سکتے ہیں جب عقلمند ہوں۔اب جب عقل ہی بیکار سمجھی گئی تو نقل کا کیا اعتبار؟ سید احمد ،امام رازی، غزالی اس طرف گئے ہیں کہ عقل مقدّم ہے۔جہاں عقل کے خلاف ہو وہاں نقل کی تاویل کریں گے چنانچہ یہ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔شیخ ابن تیمیہ نے ۴جلد کتاب اس مضمون پر لکھی ہے۔وہ کہتے ہیں یہ سوال سرے سے ہی غلط ہے عقل صحیح اور نقل صریح کبھی آپس میں متعارض نہیں ہو سکتے۔ایک چشمہ سے دوچیزیں نکلیں اور پھر آپس میں ایک دوسرے کا نقیض ہوں یہ غلط بات ہے۔مکتوبات امیر المومنین ۱۔جناب حکیم مکرم معظم مکرمت نامہ کو پڑھ کر مجھے دیر تک تعجب رہا کہ ایک حکیم ہو، محمد ہو، صدیق ہو پھر ایسا بے جا