ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 93
(اٰل عمران : ۱۱۳)ٍّ۔مفردات القرآن میں لفظ قتل کے نیچے لکھا ہے قَتَلْتَہ ذَلَلْتَہ۔تو اس معنی کر کے تم لوگ ذلیل کرنا چا ہتے ہوانبیاء کو ناحق اور قتل کے معنی سخت مارنا یامار ڈالنا بھی آیا ہے تو اس لئے معنی ہوئے سخت مارنا یا مار ڈالنا چا ہتے ہو۔یَقْتُلُوْنَ مضارع کا صیغہ ہے مطلب یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذلیل کرنے یا سخت مارنے یا قتل کرنے میں تمام انبیاء کا قتل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (المائدۃ: ۳۳) ۳۔(النساء: ۱۶۰) کا ترجمہ یہ ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر ضرو ر ایمان لائے گا ساتھ اس قتل کے قبل موت اپنی کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے قتل نہیں کیامسیح کو یقیناً بلکہ اللہ نے اسے بلند کیا اپنی طرف۔اللہ تعالیٰ ان کاردّ فرماتا ہے کہ مشتبہ غیر یقینی بات پر ایمان کیسی حماقت ہے۔۴۔… الخ (البقرۃ: ۱۰۷) اگر مٹا دیں ہم کوئی بھی نشان یا اسے دنیا سے بھلا ہی دیں تو لاتے ہیں ہم بہتر اس سے یا اس کی برابر۔کیا معنی؟ اگر ہم کوئی نشان کسی طرح کا ہو اگر ہم مٹا دیں اور مٹا کر ایسا کر دیں کہ وہ بھول ہی جاو ے تو ہم اس سے بہتر لاتے ہیں۔دیکھو ہزاروں اشیاء دنیا سے مٹیں اور بُھلائی گئیںمگر موجودہ وقت میں اللہ نے اس سے بہترموجود کردیں۔یہی حال شرائع سابقہ کا بھی ہوا۔فقط ( الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ ، مورخہ۱۰؍ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ۱۱) حکیم الامت کے مکتوبات ذیل میں ہم حضرت حکیم الامت کے مکتوبات کا ایک سلسلہ درج کرتے ہیں اس سلسلہ میں تاریخ اور سن کا لحاظ ہم نہ رکھیں گے اور نہ مضامین کا خیال بلکہ ہر قسم کے خطوط جو ہمیں دستیاب ہو ں گے درج کریں گے۔اس لئے ہم الحکم کے پڑھنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جس کسی کے