ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 89
رئیس بنے بنائے بدوں کسی خرچ و خوراک دینے کے اور بلا رضاعت مال موجود عراق و شام، عرب وروم وہاں نظر آنے لگے۔یورپ و امریکہ میں بات جا پہنچی تو مجھے اپنے گزشتہ مال کا رنج ہوا اور اس دس برس میں دیکھ لیا کہ تیس ہزار کے قریب لوگ بتدریج اس کے ساتھ ہو گئے اور ہم نے ہزاروں خرچ کئے اور ایک جاںنثار نہ مل سکا(الانفال : ۶۴) ہی صادق ٹھہرا۔غرض اپنی طرح کا آرزو مندجوش مذہبی کے بزرگ کو پایا تو بڑے عزم سے یہ خط لکھ دیا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسَہٖ( صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ… حدیث نمبر۱۳) میںنے اپنے شفا خانے کا نسخہ مفید پایا آپ کو اس سے مجملاً آگاہی دی اب اس شخص کے متعلق اس کی تصنیف کے متعلق گہری نگاہ سے کام لیں اس کا نام ہے مرزا غلام احمد قادیانی۔اب میں خط کو ختم کرتا ہوں وَ اِنَّمَا لِامْرِئٍ مَّا نَوٰی۔ہاں آپ کے رسالہ، جوش مذہبی سے مجھے پتہ لگا ہے کہ آپ کو قسطنطنیہ کے حالات پر بھی گو نہ آگاہی ہے اس لئے عرض ہے کہ جس طرح مصر کے بے پایاں سمندریا نیل کے فیضان سے ہر ہفتہ پنجاب فیض پاتا ہے اور ہزاروں عمدہ عمدہ کتابیں ہمیں ملتی ہیں کیا قسطنطنیہ ایسی داد و دہش میں بے پروائی میں ہے؟ روح البیان، عینی شرح بخاری، مجموعہ شرح مواقف کوئی عمدہ کتاب ہمیں نہیں ملی۔تفسیر ، حدیث ،تاریخ، کلام جدید ،ادب فلسفہ، طبیعات ، سیرت محمدیہ مدراس کے کورس اگر آپ کو حرج و تکلیف نہ ہو تو آپ ایسے پتہ بتا دیں جس کے ذریعہ ہم کتابو ں پر اطلاع پا سکیں اور پھر منگوا سکیں اور روپیہ با احتیاط پہنچ سکے بھیجا ہوا ضائع نہ ہو جاوے۔نوردین (الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱، مورخہ ۲۴؍مارچ ا۱۹۰ء صفحہ۵،۶ )