ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 86

میں اور شخصی اسباب راحت میں انہی پر حج کا حکم ہے(اٰل عمران : ۹۸) مگر ساتھ ہی قرآن شریف میں پڑھا اورایک گدی نشین کی خبر ملی۔نمبر۱ (الاعراف : ۱۷۷) بِئْسَ مَثَلُ السُّوْئِ۔ (الاعراف : ۱۷۷) اور عالموں کی نسبت کہا گیا نمبر۲ (الجاثیۃ : ۱۸) اور اصحاب دُوَل و غنا کے متعلق خبر ملی۔نمبر ۳  (الشورٰی : ۲۸) اور (الانعام : ۱۲۴) یہ تو علمی اور صرف خیالی میری حالت تھی۔پھر میں نے یقین کیا ہوا تھا کہ علم بدون عمل ایک نکما وہم ہے اس لئے بہت لوگوں کا مرید بن کر دیکھا۔خود طلب علم میں ہندو یمن، حرمین کا سفر کیا۔طِبّ کا علم پڑھ کر غنٰی بھی ایک درجہ کا حاصل کیا اور اگر اسے غنٰی نہ سمجھیں تو اس طب کے سلسلہ میںمجھے امراء و اغنیاء سے بلکہ سلاطین کے پاس پہنچنے کا بھی موقع ملا۔گو وہ سلطنت والے پرانی اصطلاح کے سلطان ہوں مگر آہ!میں قوم کے واسطے کوئی بابرکت وجود ثابت نہیں ہو سکا۔پھر مجھے یہ سوجھا کہ میں اپنے، صرف اپنے خرچ سے ایسے باراں آدمی تیار کروں جن کو ضرویات کے لئے پچاس روپے ماہانہ دیا جائے اور وہ زمانہ کی رفتار پر مصلح بنیں۔عربی کے عالم دو، عبری کے ماہر دو، یونانی جاننے والے دو،سنسکرت جاننے والے دو، انگریزی دان دو ، عربی انگریزی دو۔پھر اس خیال پر دو مولوی بڑے عربی دان اور میرے نزدیک بہت ٹھیک۔عبری پڑھنے کے لئے پہلے چریا کوٹ، پھر کلکتہ کو بھیجے اور وہ دو برس میں بڑے کامل عبری دان بن کر واپس آئے اور دو علی گڑھ کے کالج میں بھیجے اور سید احمد خاں کے کہنے پر ان کو ماہانہ تیس روپے کے قریب دیتے رہے۔غرض قصہ مختصر جب یہ صاحبان میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایک جلسہ کیا اور اپنے خیال میں اہل ا لرائے احباب کو جمع کیا اور پو چھا سر دست کس طرح کام شروع کیا جائے تو سب