ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 84

کر کُرلی کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میں ان تمام فضول اور واہیات باتوں سے جو منہ سے کی ہیں توبہ کرتا ہوں اور جب ناک میں پانی ڈالتاہے تو ان جھوٹی مشیختوںاور عزتوں کو جو ظاہرداری اور تصنع کے لئے کرتا ہے چھوڑتا ہے۔اور جب منہ کو دھوتا ہے تو جو بدفعلیاں اور بدنظریاں کی تھیں ان سے اپنی آنکھوں اور چہرہ کو جن پر ایک خاص اثر دیکھنے سے پڑتا ہے پاک کرتا ہے اور جب اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے تو جتنے ظلم ہاتھوں سے کئے تھے اور جس قدر بدکاریاں ہاتھوں سے ظہور پذیر ہوئی تھیں ان سب سے دستبردار ہوتا ہے۔اور جب کانوں اور سر پر مسح کرتا ہے تو جتنی بدعملی یا بدکاری کی باتیں سنی تھیں اور ان کو اپنے سر میں جگہ دی تھی ان سب کو چھوڑ کر رجوع الیٰ اللہ کرتا ہے اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔(الحکم جلد ۴ نمبر ۳۵ مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۶ ) اپنی لڑکی کو نکاح کے بعد کیا فرمایا بچہ! اپنے مالک رازق اللہ کریم سے ہر وقت ڈرتے رہنا اور اس کی رضا مندی کا ہر دم طالب رہنا اور دعا کی عادت رکھنا۔نماز اپنے وقت پراور منزل قرآن کریم کی بقدر امکان بدوں امام وممانعت شریعہ ہمیشہ پڑھنا، زکوٰۃ، روزہ، حج کا ہمیشہ دھیان رکھنا اور اپنے موقع پر اس کا عملدرآمد کرتے رہنا۔گلہ، جھوٹ، بہتان، بیہودہ قصہ کہانیاں یہاں کی عورتوں کی عادت ہے اور بے وجہ باتیں شروع کردیتی ہیں ایسی عورتوں کی مجلس زہر قاتل ہے ہوشیار خبردار رہنا۔ہم کو ہمیشہ خط لکھنا، علم دولت ہے بے زوال، ہمیشہ پڑھنا، چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو قرآن پڑھانا، زبان کو نرم، اخلاق کو نیک رکھنا، پردہ بڑی ضروری چیز ہے، قرآن شریف کے بعد ریاحین العابدین کو ہمیشہ پڑھتے رہنا، مرأۃ العروس اور دوسری کتابیں پڑھو۔اور ان پر عمل کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تم کو نیک کاموں میں مدد دیوے۔والسلام نورالدین (الحکم جلد ۴ نمبر۴۶ مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۵)