ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 66
پھر قرآن کریم کے پڑھنے کا ڈھنگ یہ ہے کہ ایک بار شروع سے لے کر اخیر تک خود پڑھے اور ہر آیت کواپنے ہی لئے نازل ہوتا ہوا سمجھے۔آدم و ابلیس کا ذکر آئے تو اپنے دل سے سوال کرے کہ میں آدم ہوں یا شیطان۔اس طرح پر اپنی کل حالت کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا اور اصلاح کی راہ نکل آئے گی۔اس طرح پر قرآن کریم پڑھتے وقت جو مشکل مقام آویں ان کو نوٹ کرتے جاؤ۔جب قرآن شریف ایک بار ختم ہوجاوے پھر اپنی بیوی کو اور گھر والوں کو اپنے درس میں شامل کرو اور ان کو سناؤ۔اس مرتبہ میں جو مشکل مقام آئے تھے انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ایک بڑا حصّہ حل ہوجاوے گا اور جو اب کے بھی رہ جاویں ان کو پھر نوٹ کرو۔اور تیسری مرتبہ اپنے دوستوں کو بھی شامل کرو اور پھر چوتھی مرتبہ غیروں کے سامنے سناؤ۔اس مرتبہ انشاء اللہ سب مشکلات حل ہوجاویں گی۔مشکل مقامات کے حل کرنے کے واسطے دعا سے کام لو۔(الحکم جلد۴ نمبر۲۵ مورخہ ۹؍جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ۵) ایمان بالر سالت کی حقیقت ایمان بالرسالت کی حقیقت سے لوگ آشنا نہیں ہوتے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ جو آدمی رسول اللہ کی باتیں نہیں مانتا تو پھر اس آدمی اور اس کے دل کے درمیان ایک روک ڈال دیتا ہے (الانفال : ۲۵) جو انسان خود غفلت کرتا ہے اس سے توفیق چھین لی جاتی ہے۔زندگی پر مت اتراؤ دیکھو سبز شاخیں بھی بعض اوقات کٹ جاتی ہیں یہی قانون الٰہی ہے جس کی تہہ میں باریک درباریک اسباب ہوتے ہیں پس غفلت اختیار نہ کرو۔نیک نمونہ بنو۔ایسا نہ ہو کہ ظالموں میں پکڑے جاؤ۔مامور من اللہ امام کی اطاعت ضروری چیز ہے (الانفال : ۲۵) (اللہ اور اس کے رسول کی مان لو) پر عمل کرو۔تاکہ تم اس لعنت سے بچ جاؤ جو مرد اور اس کے دل کے درمیان روک پیدا ہونے سے ہوتی